فلاحی کالج کا راستہ ’سیاسی دباؤ‘ پر بند، سیٹیزن پورٹل پر شکایت

پیر 12 جولائی 2021 17:29

ایم این اے رضا ربانی کھر نے اس واقعے سے مکمل لاتعلقی کا اظہار کیا ہے (فوٹو: فیس بک)

پروفیسر رضوان خالد چوہدری کا تعلق پاکستان کے ضلع مظفر گڑھ کے قصبے گجرات سے ہے۔ وہ کینیڈا کی مختلف یونیورسٹیوں میں پی ایچ ڈی کے طلبا کو پڑھاتے پیں۔
پروفیسر رضوان خالد چوہدری کے مطابق انھوں نے اپنے علاقے کے طلبا کو بین الاقوامی معیار کی تعلیم سے آراستہ کرنے کا منصوبہ بنایا ہے لیکن مقامی سیاست کی وجہ سے ان کو مسائل کا سامنا ہے۔
اب انھوں نے سیٹیزن پورٹل پر ایک شکایت درج کرائی ہے کہ ’علاقے کے طلبا کے لیے تعمیر کردہ کالج کے لیے راستہ ریلوے کی زمین سے گزرتا ہے جس کو ابتدائی منظوری کے بعد تعمیر کیا گیا تھا تاہم مقامی ایم این اے  رضا ربانی کھر نے ریلوے حکام اور اپنے ملازموں کے ذریعے نہ صرف توڑ دیا ہے بلکہ کالج کی املاک کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔‘
مزید پڑھیں
دوسری جانب اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر خارجہ حنا ربانی کھر اور ان کے بھائی ایم این اے رضا ربانی کھر نے اس واقعے سے مکمل لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔
حنا ربانی کھر نے کہا کہ ’ریلوے کی زمین پر راستہ جنھوں نے بنایا وہ جانیں اور ریلوے جانے ہمارا اس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔‘
رضا ربانی کھر نے جائے وقعہ پر اپنی موجودگی کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’میں قومی اسمبلی اور کمیٹیوں کے اجلاسوں کی وجہ سے اسلام آباد میں موجود ہوں۔ یہ ریلوے اور کالج انتطامیہ کا باہمی معاملہ ہے۔ ہمارے خاندان کو صرف اس لیے ملوث کیا جا رہا ہے تاکہ اس مسئلے کو توجہ حاصل ہو سکے۔ انھیں چاہیے کہ ریلوے کو اپنے قانونی کاغذات دکھائیں اور ان کے ساتھ معاملات مل بیٹھ کر حل کریں۔‘
اردو نیوز سے گفتگو میں پروفیسر رضوان خالد چوہدری نے بتایا کہ ‘وزیر اعظم کے ویژن کے تحت بحیثت اوورسیز پاکستان ملکی تعلیم و ترقی میں کردار ادا کرنے کا سوچ کر پاکستان آئے تھے لیکن سیاسی مداخلت اس قدر زیادہ ہے کہ خود کو بے بس تصور کرنے لگے ہیں۔ ریلوے سمیت جس ادارے میں بھی جاتے ہیں آگے سے جواب ملتا ہے کہ ہمارے اوپر سیاسی دباؤ ہے ہم آپ کی مد نہیں کر سکتے۔‘
انھوں نے بتایا کہ ’ کالج کی عمارت میں 20 ہزار مربع فٹ عمارت مکمل ہو چکی ہے اور مزید 20 ہزار مربع فٹ جلد مکمل ہو جائے گی۔ تاہم مقامی سطح پر سیاسی دباؤ کی وجہ سے بجلی، گیس کنیکشن کے حصول اور رجسٹریشن میں رکاؤٹوں جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس کے علاوہ کالج کو جانے والا راستہ سیاسی مداخلت کے باعث بند کر دیا گیا ہے۔‘