فلپائن میں آتش فشاں سے زہریلی گیس کا اخراج ، 2 ہزار رہائشیوں کی نقل مکانی

فلپائن کے دارالحکومت منیلا کے قریب آتش فشاں پھٹنے سے فضا میں زہریلی گیس پھیل گئی۔ جس کے باعث علاقے سے 2 ہزار سے زائد افراد علاقہ چھوڑ کر دوسری جگہ جانے پر مجبور ہوگئے۔
اے ایف پی کے مطابق ایک دلکش جھیل میں موجود ‘تال’ نامی آتش فشاں کئی دنوں سے فضا میں سلفر ڈائی آکسائیڈ پھیلا رہا ہے۔

زہریلی گیس سے3 لاکھ سے زائد افراد خطرات کا شکارہو سکتے ہیں۔ (فوٹو عرب نیوز)
اس آتش فشاں کے باعث منیلا اور گردونواح کے متعدد صوبوں میں غبار چھایا ہوا ہے جو صحت سے متعلق انتباہات کا سبب بن رہا ہے۔
قدرتی آفات سےنمٹنے والے محکمے کے صوبائی عہدیدار جوزلیٹو کاسترو نے کہا کے بعد سے کم ازکم 2400 افراد گھر چھوڑ کر جاچکے ہیں۔ توقع ہے کہ آنے والے دنوں میں مزید رہائشی انخلا کریں گے۔
کاسترو نے کہا کہ  آتش فشاں سے متاثرہ خاندان کورونا وبا کے باعث بند سکولوں میں یا رشتہ داروں کے ہاں پناہ لے رہے ہیں۔
واضح رہے کہ ‘تال’منیلا کے جنوب میں صرف 50 کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے۔
گزشتہ ایک ہفتہ کے دوران زیادہ تر اوقات میں اس آتش فشاں سے’سموگ’خارج ہوتا رہا ہے جس نے دارالحکومت منیلا میں سورج کو چھپا  رکھا ہے۔

جنوری2020 میں آتش فشاں پھٹنے سے کثیر تعداد میں نقل مکانی کرنا پڑی۔ (فوٹو عرب نیوز)
شہری دفاع کےعہدیداروں نےمتنبہ کیا ہے کہ موجودہ آتش فشانی کی صورتحال بدترین ہوئی تواس زہریلی گیس کے اخراج سے3 لاکھ 17 ہزار سے زائد افراد خطرات کا شکارہوسکتے ہیں۔
تال’ایک ایسے ملک کا سب سے فعال آتش فشاں ہے جو بحرالکاہل میں زلزلے کے سب سے سرگرم علاقے میں واقع ہونے کی وجہ سے وقتا ًفوقتاً آتش فشانی اور زلزلوں کی زد میں رہتا ہے۔
جنوری2020 میں فلپائن میں آتش فشاں کے پھٹنے سے15کلومیٹر کی بلندی تک راکھ پھیل گئی تھی اورسرخ دہکتے ہوئے لاوے سے کئی مکانات تباہ اور مویشی ہلاک ہوگئے تھے جبکہ ایک لاکھ 35 ہزار سے زیادہ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا پڑا تھا۔