فلپائن میں آف شور جوا خانوں پر کریک ڈاؤن، 40 ہزار چینیوں کو ملک بدر کرنے کا فیصلہ

یہ صنعت سنہ 2016 میں فلپائن میں ابھری اور دیکھتے ہی دیکھتے اس میں سرمایہ کاری تیزی سے بڑھ گئی۔ فائل فوٹو

فلپائن نے 175 آف شور جوا خانوں کو بند کرنے اور تقریبا 40 ہزار چینی کارکنوں کو ملک بدر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
مزید پڑھیں
برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز نے پیر کو فلپائن کی وزارت انصاف کے حکام کے حوالے سے بتایا کہ یہ ملک میں بدنام آن لائن جوا خانوں کی صنعت کے خلاف کریک ڈاؤن کا حصہ ہے۔
یہ صنعت سنہ 2016 میں فلپائن میں ابھری اور دیکھتے ہی دیکھتے اس میں سرمایہ کاری تیزی سے بڑھ گئی۔
فلپائن میں جوا کی صنعت کے وابستہ افراد ملک کے کمزور قوانین کا فائدہ اٹھاتے ہوئے چین میں صارفین کو ہدف بنانے لگے جہاں جوا ممنوع ہے۔
جس وقت یہ صنعت بلند ترین سطح پر تھی تو فلپائن میں اس سے وابستہ کارکنوں کی تعداد تین لاکھ سے زیادہ تھی۔
کورونا کی وبا اور بلند شرح ٹیکس کے بعد آف شور جوا خانوں یا ’پوگو‘ سے وابستہ افراد نے اپنے کاروبار کو دیگر ملکوں میں منتقل کیا۔
وزارت انصاف کے ترجمان جوز ڈومینک کلاوانو نے کہا کہ ’یہ کریک ڈاؤن چینی شہریوں کی طرف سے ساتھی چینی شہریوں کے خلاف قتل، اغوا اور دیگر جرائم کی رپورٹوں سے شروع کیا گیا تھا۔‘
ترجمان کے مطابق بند کیے گئے جوا خانوں کے پاس لائسنس نہیں تھے یا ان کی مدت ختم ہو گئی تھی۔ بعض کے لائسنس حکومت نے منسوخ کر دییے تھے۔ ’چینی کارکنوں کی ملک بدری کے لیے کارروائی اگلے ماہ شروع ہوگی۔‘
وزارت خزانہ کے مطابق حکومت نے سنہ 2020 میں 122 ملین امریکی ڈالر اور پچھلے سال مقامی کرنسی میں چار ارب ان جوا خانوں سے فیسوں کی مد میں وصول کیے۔
اقتصادی ماہرین کا اندازہ ہے کہ اس صنعت کے ذریعے ٹیکسوں، کارکنوں کے اخراجات اور دفتر کے کرائے پر کافی زیادہ رقم خرچ کی جا رہی ہے۔
منیلا میں چین کے سفارت خانے نے ایک بیان میں کہا کہ بیجنگ ملک بدری اور ’پوگو‘ پر جرائم کے باعث کریک ڈاؤن کی حمایت کرتا ہے۔

فلپائنی حکام کے مطابق چینی شہریوں نے ایک دوسرے کے خلاف جرائم کا ارتکاب بھی کیا۔ فوٹو: سکرین گریب
سفارت خانے کے بیان میں مزید کہا گیا کہ چین کی حکومت جوئے سے نمٹنے کے لیے سخت اقدامات کی حمایت کرتی ہے۔‘
پراپرٹی تجزیہ کاروں کے مطابق جوئے کے کاروبار پر مکمل پابندی سے فلپائن میں ہزاروں دفاتر خالی ہو جائیں گے۔