فنکار کی اہمیت کا اندازہ فالورز کی تعداد سے لگائے جانے کا دور ہے: حسن احمد

حال ہی میں اختتام ہونے والے ڈرامہ سیریل ’مُشک‘ اور اس میں ملک احمد کا کردار نبھانے والے اداکار حسن احمد کو بھی عوام میں خاصی پذیرائی ملی ہے۔
اردو نیوز کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے حسن احمد نے بتایا کہ جب اس کردار کی انہیں پیشکش ہوئی تو سمجھ ہی نہیں آیا کہ یہ کیا کردار ہے اور کیسے نبھانا ہوگا۔
’میں شش و پنج میں تھا کہ یہ کردار کروں یا نہ کروں، لیکن جب میری بات عمران اشرف سے ہوئی تو انہوں نے کہا کہ آپ کو یہ کردار ضرور کرنا چاہیے۔ کہانی کا اختتام اسی کردار کے گرد گھومتا ہے یوں میں اس کردار کو کرنے کے لیے قائل ہو گیا۔‘
حسن احمد نے بتایا کہ سکرپٹ پڑھ کر انہوں نے سوچ لیا تھا کہ یہ کردار کس انداز سے نبھانا ہوگا، لیکن جب سیٹ پر گئے تو ڈائریکٹر نے اس کردار کو مزید دلچپسپ بنا دیا تھا۔
مزید پڑھیں
’آنکھوں میں کاجل لگا دیا اور شال پہنا دی، بولنے کا انداز اور چہرے کے تاثرات ایسے تھے کہ جسے دیکھنے والے کو نفرت ہو جائے۔ میں نے یہ سب کرنے کی کوشش کی اور لوگوں نے سراہا بھی۔‘
حسن احمد نے کہا کہ ڈرامے کے ڈائریکٹر نے ان سے ایسی اداکاری کروانے میں کامیاب ہو گئے ورنہ شاید وہ کردارکو اس لیول پر نہ لے جا پاتے جہاں دیکھنے والے بے اختیار کہہ اٹھتے ’واہ‘۔
حسن احمد کا کہنا تھا کہ ان کے پاس کام کم آتا ہے لہٰذا چوائس بھی کم ہوتی ہے۔
’جن لوگوں کے پاس کام کی بھرمار ہو ان کے پاس پھر بھی مارجن ہوتا ہے کہ وہ کسی کردار کو کر لیں اور کسی کو منع کر دیں۔ خوشی یہ ہے کہ میرے پاس کم مگر معیاری کام آتا ہے۔‘

حسن احمد کے مطابق اہلیہ کا کیریئر بہتر ہونے سے جلن ہوتی تھی۔ (فوٹو: حسن احمد انسٹاگرام)
حسن احمد کا کہنا تھا کہ وہ نہیں جانتے کہ انہیں منفی کردار ہی کیوں آفر ہوتے ہیں۔
’میرے حساب سے منفی کرداروں میں اداکاری کی گنجائش بہت زیادہ ہوتی ہے، ایک ہی طرح کے نیگیٹیو کردار کر کے بعض اوقات میری سمجھ بند ہوجاتی ہے کہ فلاں کردار کیسے کرنا ہے جب ایسا ہوتا ہے تو وہاں پر پھر اچھے ڈائریکٹر کی مدد کام آتی ہے۔ میں اب وہ کردار سائن کرتا ہوں جن میں اداکاری کی گنجائش بہت زیادہ ہو، امیج گیا بھاڑ میں۔‘
مشک سے قبل ڈرامہ سیریل مامتا میں بھی حسن احمد نے منفی کردار ادا کیا تھا۔ اس ڈرامے کی کاسٹ بھی حیران تھی کہ کیا سوچ کر انہوں نے یہ ڈرامہ سائن کیا اس سوال کے جواب میں حسن احمد نے کہا کہ ’کاسٹ بے شک اُس لیول کی نہیں تھی، جس لیول کی میں توقع کرتا ہوں۔ لیکن میرا کردار مجھے خاصا اچھا لگا لوگوں نے بھی کردار کو پسند کیا لیکن پچاس اقساط ریکارڈ کروانے کے بعد میں نے ڈائریکٹر کو کہہ دیا کہ مجھے مزا نہیں آ رہا۔‘
حسن احمد کہتے ہیں کہ بعض اوقات یہ بھی ہوتا ہے کہ معاملات زندگی چلانے کے لئے فنکار کو سمجھوتہ کرنا پڑتا ہے، کہانی اور کردار جیسا بھی ہو وہ سائن کر لیتا ہے۔
’میں سمجھتا ہوں کہ اس چیز کا آخر کار اداکار کو نقصان ہی ہوتا ہے۔ اگر آپ بھوکے نہ مر رہے ہوں تو پھر زندگی میں ایک آدھ پراجیکٹ کو منع ضرور کریں، ضروری نہیں کہ جو چیز آفر ہوئی ہے وہ کرنی ہی ہے۔‘
’میں نے بھی اپنی زندگی میں دو تین پراجیکٹس ایسے کیے، جن میں کہانی کردار اچھا نہ تھا لیکن یہ ضرور تھا کہ میں نے پھر پیسے اچھے لیے۔‘

حسن احمد نے کیریئر کا آغاز ایڈورٹائزنگ ایجنسی سے کیا جہاں ان کی ملاقات سنیتا مارشل سے ہوئی۔ (فوٹو: حسن احمد انسٹاگرام)
ایک سوال کے جواب میں حسن احمد نے کہا کہ وہ اور ان کی اہلیہ سنیتا مارشل ایک دوسرے کے ساتھ پراجیکٹس ڈسکس کرتے ہیں، کئی کردار نبھا کر اب انہیں بھی سمجھ آنا شروع ہو گئی ہے، لہٰذا اس حوالے سے وہ سنیتا کو زیادہ اچھا گائیڈ کر لیتے ہیں۔
’مجھے بھی سنیتا بتاتی ہے کہ میرے کسی بھی کردار کو لے کر لوگ کتنا سراہا رہے ہیں، میں اپنا بہت زیادہ ناقد ہوں، کوشش کرتا ہوں کہ بہتر سے بہتر کام کروں۔‘
حسن احمد سے جب سوال کیا کہ ان کی اہلیہ سنیتا مارشل کا کیرئیر ان سے زیادہ بہتر ہے، اس چیز کی کبھی جلن ہوئی؟ تو انہوں نے اعتراف کیا کہ جلن ہوتی تھی۔
’شروع شروع میں بہت جیلسی ہوتی تھی کہ وہ مجھ سے آگے ہیں، میرے پاس محنت اور جنون تھا لیکن وہ جنون نکالنے کا کہیں موقع نہیں مل رہا تھا۔ پھر آہستہ آہستہ جب میں نے بھی اپنا نام بنانا شروع کیا، مزاج میں میچورٹی آتی گئی تو آہستہ آہستہ کرکے جیلسی ختم ہو گئی۔‘
حسن احمد کہتے ہیں کہ ایم بی اے کرنے کے بعد انہوں نے ایک ایڈورٹائزنگ ایجنسی جوائن کی تھی، وہیں ان کی ملاقات سنیتا مارشل سے ہوئی۔
‘مجھے شوبز کے گلیمر نے بہت زیادہ اپنی طرف کھینچا، پھر گلیمر کی ایسی لت لگی کہ چھٹ نہ سکی۔ شروع میں بہت زیادہ کمرشلز کیے پھر اداکاری کی آفرز آنے لگیں، شروع میں اداکاری کو سنجیدگی سے نہیں لیتا تھا، لیکن اب خاصا سنجیدہ ہوں۔‘
حسن احمد نے شوبز انڈسٹری میں گروپنگ کے حوالے سے کہا کہ دو چار لوگ ہم مزاج مل جائیں تو گروپ بن بھی جایا کرتا ہے، لیکن اگر گروپنگ صرف کام حاصل کرنے یا دوسروں کی ٹانگ کھینچنے کے لیے کی جائے تو وہ یقیناً ایسی گروپنگ کے خلاف ہیں۔
حسن احمد کہتے ہیں کہ الگ ہی دور آگیا ہے کہ اب تو کسی بھی فنکار کی اہمیت کا اندازہ سوشل میڈیا پر اسکے فالورز دیکھ کر لگایا جاتا ہے۔