’فنی خرابی سے حادثات کا خطرہ‘، ٹیسلا لاکھوں گاڑیاں واپس منگوائے گی

الیکٹرک گاڑیاں بنانے والی بڑی کمپنی ٹیسلا چین میں مارکیٹ سے دو لاکھ 85 ہزار سے زائد گاڑیاں واپس منگوائے گی کیونکہ ایک تحقیق میں گاڑی کے ڈرائیونگ سافٹ ویئر میں کچھ ایسی خرابی سامنے آئی جو حادثے کا باعث بن سکتی ہے۔
یہ بات حکومتی نگران ادارے کے ایک اہلکار کی جانب سے بتائی گئی ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سٹیٹ آف مارکیٹ ریگولیشن کی جانب سے جاری ہونے والے نوٹس میں کہا گیا ہے کہ کمپنی گاڑیاں خریدنے والوں سے خود رابطہ کرے گی اور ان کے سافٹ ویئر مفت اپ ڈیٹ کرے گی۔
مزید پڑھیں
نوٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ماڈل تھری اور ماڈل وائے کی کچھ مقامی طور پر تیار ہونے والی اور کچھ درامدہ  گاڑیاں متاثر ہیں۔
ادارے کے مطابق ’فیصلہ کیا گیا ہے کہ آج سے ہی گاڑیاں واپس منگوانے کا سلسلہ شروع کیا جائے۔‘
یہ حکم نامہ امریکہ کی خود کار گاڑیوں کی سرخیل کمپنی کے لیے دھچکہ ہے اور گذشتہ چند ماہ میں مہلک حادثات کی وجہ سے وہ چین کے سکروٹنی کے نگران ادارے کی زد میں آئی ہے۔

سٹیٹ آف مارکیٹ ریگولیشن کے نوٹس میں کہا گیا ہے کہ کمپنی خود رابطہ کرے گی اور سافٹ ویئر مفت اپ ڈیٹ کرے گی (فوٹو: روئٹرز)
چینی ادارے کے نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ’کروز کنٹرول سسٹم میں خرابی کے باعث ڈرائیور معمولی غلطی سے اسے ایکٹویٹ کر سکتا ہے۔‘
نوٹس کے مطابق ’اس سے گاڑی کی رفتار یکدم بڑھ جائے گی، جو تصادم کا باعث بن سکتی ہے اور تحفظ کے لحاظ سے خطرناک ہے۔‘
کار ساز کمپنی کی گاڑیوں میں پائی جانے والی خرابیوں کے حوالے سے سوشل میڈیا پر بھی چین میں کئی شکایات سامنے آئیں جو اپریل میں شنگھائی آٹو شو میں ایک بڑے احتجاج پر منتج ہوئیں۔

چین میں سوشل میڈیا پر بھی گاڑیوں میں پائی جانے والی خرابی کے بارے میں شکایات سامنے آئیں (فوٹو: اے ایف پی)
گاڑیاں بنانے والی کمپنی کی ویب سائٹ کے مطابق کروز کنٹرول فنکشن گاڑی کی سپیڈ کو اردگرد کی ٹریفک کی مناسبت سے کنٹرول کرتا ہے اور یہ ٹیسلا کا کلیدی آٹو پائلٹ ڈرائیونگ فنکشن ہے۔
کار ساز کمپنی چین میں بہت مقبول ہے اور اپنی ہر چار گاڑیوں میں ایک چینی مارکیٹ میں فروخت کرتی ہے۔
کمپنی کی جانب سے پچھلے ماہ اعلان کیا گیا تھا کہ وہ چین میں اپنا ڈیٹا سینٹر بنائے گی جس کے بعد صارفین اس پریشانی میں مبتلا ہوئے کہ ان کا ڈیٹا امریکہ بھی بھجوایا جا سکتا ہے۔
جمعے کے روز یہ خبر سامنے آنے کے بعد ٹیسلا کے شیئر میں آٹھ فیصد گراوٹ دیکھی گئی ہے۔