فوجی اڈے، امریکا اور پاکستان میں ’’تعمیری گفتگو‘‘، جیک سولیون

امریکی نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر جیک سولیون کا دعویٰ ہے کہ افغانستان کو مستقبل میں کسی بھی طرح کے دہشت گرد گروپوں کا گڑھ بننے سے روکنے کیلئے پاکستان سے بذریعہ فوجی، انٹیلی جنس اور ڈپلومیٹک چینلز ’’تعمیری گفتگو‘‘ ہوئی ہے۔

وائٹ ہاؤس میں پریس بریفنگ کے دوران امریکا کے نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر جیک سولیون نے صحافی کی جانب سے سوال ’’کیا امریکا پاکستان میں ڈرون طیاروں کیلئے اڈہ لینا چاہتا ہے؟‘‘ کے جواب میں کہا کہ میں پاکستان کے ساتھ مذاکرات پر زیادہ تفصیلات میں نہیں جاؤں گا۔

انہوں نے کہا میں صرف اتنا کہوں گا کہ امریکا یقینی بنانا چاہتا ہے کہ افغانستان مستقبل میں القاعدہ یا آئی ایس آئی ایس یا کسی بھی دہشت گرد گروپ کے امریکا پر حملے کیلئے بنیاد نہ بنے، اس حوالے سے ہماری پاکستان کے ساتھ فوج، انٹیلی جنس اور ڈپلومیٹک چینلز تاہم ہماری کافی ’’تعمیری گفتگو‘‘ ہوئی ہے۔

مزید جانیے : امریکافوجی اڈوں کیلئے آرمی چیف سےرابطے میں ہے،خرم دستگیرکادعویٰ 

انہوں نے اس حوالے سے تفصیلات بتانے سے انکار کردیا کہ پاکستان کے ساتھ کس طرح کی گفتگو ہوئی ہے۔

نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر کا مزید کہنا ہے کہ عہدیداروں نے افغانستان میں دہشتگردی کے خطرے سے نمٹنے کیلئے انٹلیجنس اور دفاعی نقطۂ نظر سے ’’ایک مؤثر صلاحیت‘‘ کی تعمیر کیلئے ’’ممالک کی وسیع تر رینج‘‘ سے بات چیت کی ہے۔

پاکستان کی اعلیٰ قیادت بشمول وزیراعظم عمران خان، صدر مملکت عارف علوی اور وفاقی وزراء نے وضاحت کی ہے کہ پاکستان امریکا کو افغانستان میں کارروائی کیلئے فوجی اڈے دینے کی پیشکش نہیں کرے گا۔

صدر مملکت عارف علوی نے وائس آف امریکا کو اپریل میں دیئے گئے انٹرویو میں کہا تھا کہ مجھے اس حوالے سے نہیں معلوم اور مجھے نہیں لگتا ہے کہ پاکستان ایسی آفر کرنے کی ایسی پوزیشن میں ہوگا۔ پاکستان ایک بار امریکا کو ڈرون طیارے اڑانے کیلئے اڈے فراہم کرچکا ہے تاہم عارف علوی نے کہا تھا کہ وہ انہیں اس حوالے سے علم نہیں اگر واشنگٹن نے دوبارہ ایسی کوئی درخواست کی ہے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے سینیٹرز سے گفتگو میں کہا تھا کہ وزیراعظم عمران خان جب تک اقتدار میں ہیں پاکستان میں امریکی اڈے کی اجازت نہیں دیں گے۔

پاکستانی حکومت کی جانب سے قطع نظر نیویارک ٹائمز نے اتوار کو رپورٹ شائع کی کہ سی آئی اے چیف ولیم جے برنس نے حال ہی میں اسلام آباد کا غیر اعلانیہ دورہ کیا، جہاں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید سے ملاقات کی۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ امریکی ڈیفنس سیکریٹری لائیڈ جے آسٹن نے مستقبل میں افغانستان میں امریکی آپریشن کیلئے مدد حاصل کرنے کیلئے پاکستانی آرمی چیف کو متعدد کالز کیں۔

امریکی عہدیداروں کے حوالے سے نیویارک ٹائمز نے رپورٹ کیا ہے کہ ’’پاکستانیوں نے ملک میں اڈوں کے استعمال کو کئی پابندیوں سے مشروط کردیا، ان کا مطالبہ ہے کہ سی آئی اے یا فوج افغانستان میں کسی بھی ہدف کو نشانہ بنانے سے پہلے پاکستان کو آگاہ کرے گا۔

رپورٹ کے مطابق سی آئی اے نے سیکڑوں ڈرون حملوں کیلئے بلوچستان کا شمسی ایئر بیس استعمال کیا، جس کا آغاز 2008ء میں ہوا تھا۔

متعلقہ خبریں