فوج کی واپسی، انڈیا اور چین کے تعلقات خوش گوار ہو جائیں گے؟

نریندر مودی اور شی جنپنگ اگلے ہفتے شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن کے اجلاس میں شرکت کریں گے (فوٹو: اے ایف پی)

دو برس تک سخت کشیدگی کے بعد اگرچہ انڈیا اور چین نے دو روز قبل اپنی اپنی فوجیں مغربی ہمالیہ سے پیچھے ہٹانے کا اعلان کر کے ’سفارتی تعلقات کی بحالی‘ کا اعلان کیا تھا تاہم دو سال تک جاری رہنے والے تنازع کے خاتمے کا امکان کم کم دکھائی دیتا ہے اور اس سوال کا جواب ’ہاں‘ میں دینا مشکل ہے کہ دونوں کے تعلقات ہر لحاظ سے خوشگوار ہو جائیں گے۔
عرب نیوز میں شائع ہونے والے مضمون میں سنجے کمار نے دونوں ممالک کے ماضی و حال کا جائزہ لیتے ہوئے مستقبل کے حوالے اہم نکات بیان کیے ہیں۔
مزید پڑھیں
وہ لکھتے ہیں کہ دونوں جوہری ہمسایوں کے درمیان لداخ کے علاقے گلوان میں جون 2020 میں دست بدست جھڑپیں ہوئی تھیں، جن میں کم سے کم 20 انڈین اور چار چینی فوجی ہلاک ہوئے تھے، اس واقعے کے بعد سے ایشیا کے دو بڑے ممالک کے درمیان کشیدگی 1967 کی جنگ کے بعد پہلی بار انتہائی درجے پر پہنچ گئی تھی۔
انڈیا اور چین کے درمیان 3800 کلومیٹر کا بارڈر ہے اور 2020 کی جھڑپوں کے بعد سے فوجی حکام کے درمیان ملاقاتوں اور بات چیت کے 16 راؤنڈ ہوئے اور انڈیا نے 50 ہزار فوجی بارڈ کی طرف بھیجے تاکہ وہاں تعینات چین کی فوجی طاقت کے ساتھ توازن پیدا کیا جائے۔
اس علاقے کے کچھ حصے چار ہزار پانچ سو 75 میٹر سے بھی زیادہ اونچائی پر واقع ہیں، جہاں سردیوں میں درجہ حرارت انتہائی سطح تک گر جاتا ہے جبکہ وہاں آکسیجن کی بھی اس قدر کمی ہوتی ہے جو جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ فوجیں پیچھے ہٹانا پہلا قدم ہے، تعلقات بہتر بنانے کے لیے مزید بہت کچھ ہونا باقی ہے (فوٹو: اے ایف پی)
رواں ہفتے کے آغاز میں دونوں ممالک نے اعلان کیا تھا کہ وہ اس علاقے سے اپنی افواج نکال لیں گے، انڈیا کی وزارت خارجہ کے ترجمان اریندم بیگچی نے اس کے بعد بیان میں کہا تھا کہ معاہدے کے مطابق دونوں افواج کی جانب سے علاقے میں بنائے گئے عارضی انفراسٹرکچر کو 12 ستمبر تک مسمار کر دیا جائے گا۔
فوجیوں کا انخلا اگلے ہفتے ازبکستان میں ہونے والی شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن کے اجلاس سے قبل مکمل کیا جانا ہے۔ اجلاس کے بارے میں امکان ہے کہ اس میں انڈین وزیراعظم نریندر مودی اور چینی صدر شی جنپنگ بھی شریک ہوں گے۔
دہلی سے تعلق رکھنے والے خارجہ امور کے ماہر موہن گروواسمے نے عرب نیوز کو بتایا کہ ’فوجوں کی واپسی دونوں اطراف کے اس ارادے کو ظاہر کرتی ہے جو بات چیت کے لیے سازگار ماحول بنانے کی عکاس ہے۔‘
ان کے مطابق ’اس سے مودی اور شی کے لیے ایسا سفارتی دروازہ کھلتا ہے کہ وہ دونوں خوشگوار انداز میں ملاقات کر سکیں۔‘
گورگا ہاٹسپرنگز وہ علاقہ جہاں دونوں ممالک کی فوجیں پٹرولنگ کرتی ہیں اور اس ’ڈس انگیجمنٹ‘ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اب فوجوں کے آمنے سامنے آنے کا امکان نہیں ہو گا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اس کے علاوہ کچھ زیادہ تبدیلی دکھائی نہیں دے رہی اور بارڈر متنازع ہی رہے گا، ایسے بہت سے مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے جس سے مکمل طور پر ڈس انگیجمنٹ ہو سکتی ہے۔ یہ تو صرف پہلا قدم ہے بحالی اعتماد کے لیے ابھی بہت کچھ ہونا باقی ہے۔‘

جون 2020 میں دونوں ممالک کی افواج میں لداخ میں جھڑپوں کے بعد شدید کشیدگی چلی آ رہی ہے (فوٹو: اے ایف پی)
انڈو پیسفک ریسرچ پروگرام کے چیئرپرسن منوج کیولرامنی کہتے ہیں کہ اس ہفتے مخصوص علاقے سے فوجوں کی دوری، کشیدگی سے دوری نہیں ہے کیونکہ ہزاروں کی تعداد فوجی اب بھی اس علاقے میں موجود رہیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’اس وقت ہم آنکھوں کے سامنے کی لڑائی سے ایک قدم پیچھے ہٹے ہیں، تاہم ابھی صورت حال معمول پر آنے سے بہت دور ہیں۔‘
ان کے مطابق ’میرا خیال ہے کہ یہ ایک مثبت پیش رفت ہے، آج ممالک تلخ نکات سے ایک قدم پیچھے ہٹ گئے ہیں، تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ سب کچھ ٹھیک ہو گیا ہے۔‘
اس سے اتنا ضرور ہو گا کہ نریندر مودی اور شی جن پنگ کے لیے شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن کے اجلاس میں سیاسی طور پر بات چیت کرنے کی گنجائش پیدا کر دی ہے۔‘

نو ستمبر کو انڈیا اور چین نے اپنی اپنی فوجوں کو پیچھے ہٹانے کا آغاز کیا تھا (فوٹو: اے ایف پی)
دہلی کے تھینک ٹینک سے وابستہ ڈاکٹر منوج جوشی نے عرب نیوز کو بتایا کہ فوجوں کے انخلا سے دونوں طرف کی افواج کی پٹرولنگ تو ختم ہو جائے گی تاہم زیادہ مؤثر تب ہوتا جب اس کا دائرہ ایک چھوٹے علاقے تک محدود نہیں بلکہ بڑے پیمانے پر ہوتا کیونکہ بارڈر ہزاروں کلومیٹرز پر محیط ہے۔
خیال رہے کہ نو ستمبر کو دونوں ممالک کی فوجوں نے پیچھے ہٹنا شروع کر دیا تھا، جس کو بعض لوگوں نے دونوں ممالک کے درمیان بہتر تعلقات کے آغاز کی علامت قرار دیا تھا تاہم ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ ایسا ہونے میں بہت وقت لگے گا۔