فٹ بالر میراڈونا کی موت ڈاکٹروں کی غفلت سے ہوئی:پراسیکیوٹرز

ارجنٹائن کے عالمی شہرت یافتہ فٹ بالر ڈیاگو میراڈونا کی موت کے کیس میں زیرتفتیش ایک نرس کی وکیل نے کہا ہے کہ ’ڈاکٹروں کی غفلت سے عظیم فٹ بالر کی موت ہوئی۔‘
پراسیکیوٹرز کی جانب سے ان کی موکلہ ڈیانا جسیلا میڈرڈ سے تفتیش کے بعد اٹارنی روڈولفو باک نے بدھ کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’انہوں نے ڈیاگو کو مارا۔‘
دماغ کے آپریشن کے ہفتوں بعد گذشتہ سال نومبر میں 60 سالہ میراڈونا کا انتقال دل کا دورہ پڑنے کی وجہ سے ہوا تھا۔
مزید پڑھیں
ایک ٹیم کی تفتیش سے یہ بات سامنے آئی تھی کہ میراڈونا کی اچھے طریقے سے دیکھ بھال نہیں کی گئی۔
ڈیانا جسیلا میڈرڈ بھی ان سات افراد میں شامل ہیں جن کے خلاف ماہرین کی ایک ٹیم تفتیش کر رہی ہے۔
اٹارنی روڈولفو باک کا کہنا ہے ’دماغ کے آپریشن سے صحت یابی کے بعد یہ ڈاکٹرز ہی تھے جو میراڈونا کا علاج کر رہے تھے، اس کے کلائنٹ نہیں جن کو فٹ بال کے لیجنڈ کی موت کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔‘
انہوں نے کہا کہ ’میراڈونا کے دل کی تکلیف کا علاج ہو رہا تھا لیکن اس کے ساتھ وہ نفسیاتی علاج کے لیے بھی دوائیں لے رہے تھے جس سے ان کے دل کی دھڑکن تیز ہوئی۔‘
اس کے علاوہ میراڈونا ہسپتال میں گرے بھی تھے اور جب نرس ڈیانا جسیلا میڈرڈ نے سی اے ٹی سکین کے لیے کہا تو میراڈونا کے ایک ساتھی نے انکار کیا اور کہا کہ ’اگر پریس کو معلوم ہوا تھا تو یہ پریشان کن ہوگا۔‘

میراڈونا کے بچوں نے والد کی بگڑتی ہوئی صحت کا ذمہ دار نیورو سرجن لیوپولڈو لوکے کو ٹھہرایا (فوٹو: اے ایف پی)
ڈیانا جسیلا میڈرڈ دن کے وقت میراڈونا کی نرس تھیں۔
نیوروسرجن لیوپولڈو لوکے کے خلاف میراڈونا کے پانچ میں سے دو بچوں نے شکایت درج کی تھی جس کے بعد تحقیقات کا آغاز ہوا۔
ان کے بچے دماغ کا آپریشن ہونے کے بعد اپنے والد کی بگڑتی ہوئی صحت کا ذمہ دار نیورو سرجن لیوپولڈو لوکے کو ٹھہراتے ہیں۔
اگر ان سات افراد پر جرم ثابت ہوتا ہے تو ان کو آٹھ سے 25 سال تک قید ہو سکتی ہے۔