فیری میڈوز: پریوں کے دیس سی سحرانگیز وادی

گھنا جنگل، ہریالی،جھیل، جھرنے سب کاایک جادوئی اثر

کہتے ہیں گلگت بلتستان میں نانگا پربت کے دامن ميں واقع خوابوں اور خيالوں جيسی حسين جگہ فيری ميڈوز میں پريوں کا بسيرا ہے۔ اب یہ بات حقیقت ہو یا کہانی لیکن ایک بات تو طے ہے کہ اس خوبصورت سیاحتی مقام پر پہنچنے والا زندگی بھر اس کے قدرتی حسن کے سحر سے نہیں نکل پاتا۔

نانگا پربت کے دامن ميں پاکستان کے لیے قدرت کا ایک اور حسين تحفہ فیری ميڈوز ایک جرمن کوہ پیما نے دریافت کیا تھا اور اس سحر انگیز جگہ کو ملک کے نامور سفر نامہ نگار اور ادیب مستنصر حسین تارڑ نے بھی اپنے سفرنامے کی زینت بنایا تھا اور اس کا نام ملک سمیت پوری دنیا میں مشہور ہوا۔چہار سو ہریالی، جگالی کرتے بے پرواہ چرند، کانوں میں رس گھولتے پرند، گھنا جنگل اور اس سے گزرتے چھوٹے چھوٹے راستے۔ اب قدرتی ماحول اور پرسکون جنگلات کے شوقین حضرات کو اور کیا چاہیے۔ ایک بات ضرور ہے کہ یہاں کے راستے تھوڑے دشوارگزار ہیں اور یہاں معاملہ کچھ ان ہی پتھروں پہ چل کر اگر آ سکو تو آؤ کے مصداق ہے۔ لیکن ایک بات ہے کہ اس کے راستے میں کوئی پکی سڑک نہیں مگر ایک الگ سی کہکشاں ضرور ہے۔یہاں خوبصورت چراگاہ بھی ہے، ریفلیکشن لیک اور تارڑ لیک ہے، گھنے جنگل اور ان میں رواں جھرنے ہیں، دو گھنٹے کی مسافت پہ بیال بیس کیمپ ہے اور نانگا پربت تو خیر ہے ہی۔اس حسین ترین وادی میں پہنچنا بہت زیادہ آسان بھی نہیں لیکن ہمت مرداں مدد خدا اور پھر دیکھیں قدرت کا دلکش شاہکار۔ فیری میڈوز پہنچنے کے لیے سب سے پہلے تو رائےکوٹ سے براستہ جیپ تتو گاؤں تک پہنچنا ہوتا ہے تاہم راستہ تھوڑا کٹھن ہے۔ جہاں جیپ رکے وہاں سے پیروں کی مشقت شروع ہوجاتی ہے لیکن ویسے منزل تک پہنچنے کے لیے گھوڑے اور خچر بھی دستیاب ہوتے ہیں۔بلا کا سحر رکھنے والی اس وادی کے حسن کا کوئی جواب نہیں لیکن یہاں بسنے والے افراد کو سہولیات کی عدم فراہمی کی شکایات ضرور ہیں۔ یہ کہا جائے تو بیجا نہ ہوگا کہ پریوں کا علاقہ سمجھی جانے والی اس جگہ پر بنیادی مسائل کی شکل میں ہیبت ناک دیو بھی موجود ہیں۔پاکستان میں حسین ترین مقامات کی کوئی کمی نہیں اور قدرت نے اس لحاظ سے بھی ہمیں ایسی ایسی نعمتوں سے نوازا ہے کہ جتنا شکر کیا جائے کم ہے۔ فیری میڈوز کا شمار بھی وطن عزیز کے حسین ترین مقامات میں ہوتا ہے. سیاحت کے شوقین یا شور شرابے سے کچھ عرصہ دور رہنے کے خواہشمند افراد کے لیے فیری میڈوز کی سیر یقیناً ایک خوشگوار تجربہ ہوگا۔

متعلقہ خبریں