فیس بُک 50 لاکھ ڈالر صحافیوں کو دے گا، درخواستیں طلب

معروف امریکی سوشل میڈیا پلیٹ فیس بک کی انتظامیہ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ وہ 50 لاکھ ڈالر مقامی صحافیوں کو دینے جا رہا ہے۔
روئٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق ادارے کی جانب سے کہا گیا ہے کہ نئے اشاعتی پلیٹ فارم کے لیے ان آزاد لکھاریوں کے ساتھ معاہدے کیے جائیں گے جو سوشل میڈیا کے ذریعے پیسے کمانا چاہتے ہیں اور اپنی تحریروں سے صارفین کو متوجہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔
یہ مہم فیس بک کی ای میلز کے جوابات کے سلسلے کی ایک کڑی ہے جس کو سبسٹیک پلیٹ چلاتا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ ’ان رپورٹرز پر توجہ دی جائے گی جو عام طور پر کسی کمیونٹی کی اکیلی آواز ہوتے ہیں۔‘
مزید پڑھیں
 اس اشاعتی پلیٹ فارم کا اعلان فیس بک نے پچھلے مہینے کیا تھا۔ یہ فیس بک پیجز کے ساتھ جڑا ہو گا، جس میں صحافیوں کے لیے فری سیلف پبلشنگ ٹول بھی ہو گا جس کے ذریعے وہ نیوز لیٹرز بھیج سکیں گے یا پھر اسے اپنی ویب سائٹ بنانے کے لیے بھی استعمال کر سکیں گے۔
فیس بک کا کہنا ہے ’امریکہ کے فری لانس صحافی جمعرات کو شروع ہونے والے پروگرام کے لیے درخواست دے سکتے ہیں اور ان رپورٹرز کو ترجیح دی جائے گی جو سیاہ فام، مقامی، لاطیی، ایشین اور دیگر نسلوں کے صارفین کے حوالے سے ایسا مواد دیں جو موجودہ خبروں کے ذرائع میں کم ہو۔‘
کمپنی کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے ’صحافی فیس بک ٹولز کے ذریعے کہانیوں کی اشاعت کی بدولت اضافی پیسے کمانے کے بھی قابل ہوں گے۔‘

فیس بک انتظامیہ کا کہنا ہے کہ نئے اشاعتی پلیٹ فارم کے لیے آزاد لکھاریوں کو کام کرنے کا موقع دیا جائے گا (فوٹو: گیٹی امیجز)
اس عمل کا آغاز سبسکرپشن سے ہو گا اور ہر لکھاری اپنے پیسے خود طے کر سکتا ہے۔‘
معاوضہ رکھنے والے نیوز لیٹرز نے میڈیا کی دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور بڑے صحافتی اداروں کے بڑے نام انہیں چھوڑ کر سبسٹیک اور پیٹریون کی طرف چلے گئے ہیں۔
فیس بک کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ انٹرنیشنل سینٹر فار جرنلسٹس اور نیشنل ایسوسی ایشن آف ہسپانک میں کے اشتراک سے درخواستوں کا جائزہ لے گا اور منتخب صحافیوں کو سروسز تک رسائی دے کر بزنس شروع کرنے کا موقع دے گا۔