فیس بک ’مفت اور بامعاوضہ‘ نیوز پلیٹ فارم لانچ کرے گا

جون 2021 کے اختتام سے قبل فیس بک خبریں پسند کرنے والوں کے لیے ایک نیا پلیٹ فارم لانچ کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔
مزید پڑھیں
سعودی میگزین سیدیتی ڈاٹ نیٹ کے مطابق خصوصی ٹیکنیکل ویب سائٹ انگیجٹ پر شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں  فیس بک نے واضح کیا ہے کہ وہ ’مفت اور بامعاوضہ ورژن کے ساتھ بلیٹن پلیٹ فارم لانچ کرے گا۔‘
اس کے علاوہ  کمپنی ابتدائی طور پر اپنے صارفین کی پسندیدہ خبروں کے کچھ پہلوؤں پر توجہ مرکوز کر رہی ہے، جیسے کھیل، فیشن، ماحولیات اور صحت وغیرہ۔ 
 پلیٹ فارم بلیٹن کو فیس بک کی ویب سائٹ سے الگ لنک میں کھولے گا۔ اس بارے میں اطلاعات ہیں کہ اس فیصلے کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔
پہلا کمپنی کی خواہش ہے کہ اس پلیٹ فارم کو ایک آزاد برانڈ بنایا جائے،  دوسرا یہ کہ خاص طور پر لکھاریوں اور پبلشرز کے لیے ایپل اور گوگل  ایپ اسٹورز کو کمیشن ادا کرنے سے گریز کیا جائے۔
اس تحریر کی تاریخ تک  کمپنی کسی ایسے مصنفین یا ناشروں کو منتخب کرنے سے گریز کر رہی ہے جو سیاسی نظریات کے ساتھ شدت پسند ہوں، تاکہ ابتدا میں ہی پلیٹ فارم کو کسی طرح کی تنقید کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ماہرین کے مطابق کمپنی تقریبا 2.9 بلین افراد کو فائدہ پہنچانے کے لیے پلیٹ فارم مہیا کر رہی ہے۔ (فوٹو: پکسا بے)
فیس بک کی عالمی خبروں کی شراکت کے نائب صدر کیمبل براؤن نے کہا ہے کہ ’ہم صحافیوں کی کم سے کم 5 ملین ڈالر تک  مدد کریں گے اور ان سے اس بارے میں مدد حاصل کریں گے۔ اس کے علاوہ صحافیوں سے دیگر فوائد کا حصول بھی ہوگا جسے وہ مفید سمجھیں گے۔‘
فیس بک کے اعلان کے مطابق کمپنی کے صحافت کے منصوبے کے مطابق  مقامی خبروں کو بھی شامل کیا جائے گا۔
اس پلیٹ فارم کے تحت اگر آپ نیوز کا ذریعہ یا مصنف سے رابطہ کرنا چاہیں تو اپنے ان باکس میں باقاعدگی سے مواد حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کرسکیں گے۔ یہ پلیٹ فارم سوشل نیٹ ورک کے توسط سے کام نہیں کرے گا لیکن صرف بلیٹن لنک پر کلک کرکے فیس بک ایپ کا استعمال کرتے ہوئے یہ براوزر علیحدہ ونڈو میں کھلے گا جہاں آپ خبر پڑھ سکتے ہیں یا نیوز لیٹر کو سبسکرائب کرسکتے ہیں۔

فیس بک کی خواہش ہے کہ پلیٹ فارم کو ایک آزاد برانڈ بنایا جائے۔ (فوٹو: سیدیتی ڈاٹ نیٹ)
ٹیک ماہرین نے اس طرف اشارہ کیا ہے کہ کمپنی تقریباً 2.9 بلین افراد کو فائدہ پہنچانے کے لیے پلیٹ فارم مہیا کر رہی ہے۔
فیس بک نے صحافیوں کو دو سال کے معاہدے کی پیش کش کی ہے، جس میں پہلے 12 ماہ کے بعد چھوڑنے کا آپشن بھی موجود ہے۔