فیس بک نے ’مودی استعفیٰ دو‘ کی پوسٹس چُھپا دیں، صارفین کا ہنگامہ

فیس بک کی جانب سے انڈین وزیراعظم نریندر مودی کے استعفے کے مطالبے پر مبنی 12 ہزار پوسٹس چُھپا لی گئی ہیں جس کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے شدید احتجاج کرتے ہوئے فیس بک کی طرف سے پابندیوں پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔
عرب نیوز کے مطابق انڈیا میں کورونا وبا کو درست طور پر کنٹرول نہ کرنے کے الزام پر ہیش ٹیگ ’ریزائن مودی‘ کے تحت پوسٹس کی جا رہی ہیں، تاہم فیس بک کی جانب سے ایسی پوسٹس غائب کر دی گئیں جن کے ساتھ یہ ہیش ٹیگ لگا تھا۔
جب فیس بک پر اس ہیش ٹیگ کو سرچ کیا جائے تو یہ پیغام سامنے آتا ہے ’ان پوسٹس میں کچھ مواد ہمارے کمیونٹی سٹینڈرڈز کے خلاف جاتا ہے۔‘
مزید پڑھیں
صارفین اس پیغام کے سکرین شاٹس ٹوئٹر پر شیئر کر رہے ہیں۔
اس حوالے سے فیس بک کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’ہم نے اس ہیش ٹیگ کو انڈین حکومت کے کہنے پر نہیں ہٹایا بلکہ ایسا غلطی سے ہوا ہے، ہم نے اس کو بحال کر دیا ہے۔‘
اس سے قبل مائیکربلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر کی جانب سے بھی 50 سے زیادہ ایسی ٹویٹس ہٹائی گئیں جن میں وبا کو درست انداز میں کنٹرول نہ کیے جانے پر انڈین حکومت پر تنقید کی گئی تھی۔

فیس بک ترجمان کا کہنا ہے کہ پوسٹس انڈین حکومت کے کہنے پر نہیں بلکہ غلطی سے بلاک ہوئیں (فوٹو: گیٹی امیجز)
خیال رہے اس وقت انڈیا میں کورونا وبا کی وجہ صورت حال انتہائی گھمبیر ہے۔ اے ایف پی کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران انڈیا میں چار لاکھ سے زائد زائد کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ مزید تین ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
 جس کے بعد مجموعی کیسز کی تعداد ایک کروڑ 91 لاکھ جبکہ اموات دو لاکھ بارہ ہزار ہو گئی ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ کیسز اور اموات کی اصل اس سے کہیں زیادہ ہے۔