فیس بک کے ذریعے آمدنی کامعاملہ جلدحل ہوجائیگا، وفاقی مشیر

وزیراعظم کے فوکل پرسن برائے ڈیجیٹل میڈیا ڈاکٹر ارسلان خالد کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت فیس بک کی مونیٹائزیشن کے لیے فیس بک انتظامیہ سے ایک سال سے بات چیت کررہی ہے جس کے اب مثبت نتائج برآمد ہونے والے ہیں اور توقع ہے کہ یہ معاملہ جلد حل ہوجائے گا۔

سماء ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹرارسلان خالد نے کہا کہ فیس بک انتظامیہ کو پاکستان میں سوشل میڈیا قوانین سے متعلق کچھ تحفظات ہیں جبکہ حکومت کی کوشش ہے کہ پاکستان میں بھی دیگر ممالک کی طرح سوشل میڈیا رولز ہونے چاہئیں۔

وزیراعظم کے فوکل پرسن برائے ڈیجیٹل میڈیا کا کہنا تھا کہ ہمارا مؤقف ہے کہ سوشل میڈیا کے کچھ ضروری رولز ریگولیشن ضرور ہونے چاہئیں جن میں ناموس رسالتﷺ، آن لائن ہراسمنٹ، بچوں سے جنسی زیادتی اور ملک میں انتشار پھیلانے جیسے واقعات کی روک تھام شامل ہیں تاہم ڈاکٹر ارسلان خالد کا کہنا تھا کہ فیس بک انتظامیہ سے بات چیت بہت جلد کسی نتیجے پر پہنچ جائے گی۔

سوشل میڈیا کے اعداد وشمار جاری کرنے والے عالمی ادارے اسٹیٹسٹا کے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت پاکستان میں 40 ملین صارفین فیس بک استعمال کر رہے ہیں اور دنیا بھرمیں فیس بک صارفین کی تعداد کے حساب سے پاکستان کا نمبر 11 واں ہے۔ فہرسست میں بھارت پہلے جبکہ امریکا، انڈونیشیا اور برازیل بالترتیب دوسرے، تیسرے اور چوتھے نمبر پر ہے۔

دنیا بھر میں 38 ممالک میں اس وقت فیس بک مونیٹائزیشن آن ہے جن میں پاکستان شامل نہیں ہے۔

دریں اثناء خیبرپختونخوا اسمبلی نے بھی حال ہی میں اس حوالے  ایک متفقہ قرارداد پاس کی ہے جس میں وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بک کی انتظامیہ سے مونیٹائزیشن کے لیے بات کرے تاکہ دوسرے ممالک کی طرح پاکستان کے نوجوان بھی فیس بک سے پیسے کما سکیں۔

اسمبلی میں قرارداد تحریک انصاف خیبرپختونخوا کے رہنما اور سابق مشیر آٰٗئی ٹی ضیاء اللہ بنگش نے پیش کی تھی جس میں وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ فیس بک انتظامیہ سے بات کرے تاکہ صارفین بالخصوص نوجوان اس سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے مثبت استعمال کے ساتھ اس کے ذریعے پیسے بھی کما سکیں۔

خیبرپختونخوا اسمبلی میں پیش کی گئی قرارداد کا متن

کرونا وباء کی موجودہ صورتحال سے جہاں روزگار متاثر ہوا وہاں سوشل میڈیا کی افادیت بڑھ گئی ہےنوجوان طبقے نے سوشل میڈیا کا استعمال تیزی سے شروع کردیا ہے پاکستان میں یوٹیوب مونیٹائزیشن سے نوجوان گھر بیٹھے پیسے کما رہے ہیں۔

قرارداد کے مطابق پاکستان میں فیس بک کے 5 کروڑ صارفین ہیں مگر فیس بک مونیٹائزیشن بند ہے جبکہ پاکستان میں 50 لاکھ صارفین فیس بک سے کما سکتے ہیں۔

قرارداد میں کہا گیا ہے کہ دیگر ممالک میں فیسبک مونیٹائزیشن آن ہے جس سے وہاں کے صارفین بھرپور فائدہ اٹھارہے ہیں۔

لہذا یہ اسمبلی صوبائی حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ وفاقی حکومت سے اس امر کی سفارش کرے کہ پاکستان میں فیس بک مونیٹائزیشن آن کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں تاکہ پاکستان میں نوجوان فیس بک کے مثبت استعمال سے مستفید ہونے کے ساتھ ساتھ پیسے بھی کماسکیں۔

قرارداد خیبرپختونخوا کی اسمبلی سے متفقہ طور پر منظور کر لی گئی ہے جس میں یہ بھی یاد دہانی کرائی گئی ہے کہ اس سے قبل قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر نے پاکستان میں فیس بک انتظامیہ کے ساتھ ملاقات کی تھی جس میں یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ فیس بک پاکستان میں مونیٹائزیشن کا آغاز کرے گی۔

ضیاء اللہ بنگش کا کہنا ہے کہ قرارداد کا مقصد نوجوانوں کو اقتصادی طور پر مستحکم بنانا ہے انہوں نے کہا کہ ان کی فیس بُک انتظامیہ سے بات ہوئی تھی جس میں انتظامیہ نے کچھ مسائل کی نشاندہی کرکے قومی اسمبلی سے قانون سازی کا مطالبہ کیا تھا۔

رہنما تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ پاکستان میں 5 کروڑ فیس بک صارفین ہیں جن میں سے کم سے کم 50 لاکھ فیس بک صارفین مونیٹائزیشن کی سہولت ملنے کے اہل ہیں۔

خیبرپختونخوا اسمبلی کے اس اقدام کو سوشل میڈیا کے صارفین نے سراہا اور کہا ہے کہ پاکستان میں سوشل میڈیا پر پابندیوں کی بجائے صارفین کے مفادات کی خاطر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ پاکستانی صارفین اور کمپنیاں دیگر ممالک کا مقابلہ کرسکیں۔

گزشتہ مہینے اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے پاکستان میں فیس بک مونیٹائزیشن آن کرنےکے لیے فیس بک انتظامیہ سے مشاورتی اجلاس بھی کیا تھا جس میں فیس بک پبلک پالیسی جنوبی ایشیا کے سربراہ سارم عزیز اور پبلک پالیسی منیجر پاکستان سحر طارق شریک تھے اجلاس میں اس حوالے سے  ضروری قانون سازی پر غور ہوا۔

 اسپیکر اسد قیصر نے اجلاس میں فیس بک انتطامیہ کو ہرقسم کے تعاون کا یقین دلا کر کہا کہ ڈیجیٹیل پاکستان موجودہ حکومت کا وژن ہے اور نوجوانوں کو سوشل میڈیا کے کارآمد اور فائدہ مند استعمال کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔

متعلقہ خبریں