قبائلی علاقوں میں3جی،فورجی سروسز بحالی کامعاملہ،وزارت دفاع کورائے دینےکی ہدایت

IHC afp

فوٹو: اے ایف پی

اسلام آباد ہائی کورٹ نے قبائلی علاقوں میں تھری جی اور فور جی سروسز بحالی کی درخواست پر وزارت داخلہ کی سمری پر وزارت دفاع کو رائے دینے کی ہدایت کردی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے درخواست پر سماعت کی۔ وفاق کی جانب سے ڈپٹی اٹارنی جنرل سید طیب شاہ عدالت میں پیش ہوئے جبکہ نمل یونیورسٹی کے طلبہ کی طرف سے عبد الرحیم وزیر ایڈووکیٹ عدالت پیش ہوئے۔

دوران سماعت ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ سیکریٹری دفاع کو رائے کے لیے فروری میں سمری بھیجی اب یاد دہانی کا لیٹر لکھا گیا۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ سیکریٹری دفاع نے آئندہ سماعت سے قبل اپنی رائے نا دی تو عدالت طلب کریں گے اور سیکریٹری دفاع کے رائے نا دینے پر عدالتی طلبی کے بعد توہین عدالت کی کارروائی بھی شروع ہو سکتی ہے۔

عدالت نے سیکریٹری دفاع کو کورٹ آرڈر بھیجنے کا حکم اور وفاق کو آئندہ سماعت سے قبل کابینہ سے سمری منظوری سے متعلق رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت 7 جون تک ملتوی کر دی۔

کلاسز آن لائن ہونے سے قبائلی علاقے کے طلبہ کو ہونے والی مشکلات پر درخواست دائر کی گئی تھی۔ درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ 2016 سے سابق فاٹا میں موبائل انٹرنیٹ سروسز بند ہیں، وزارت داخلہ کو بحالی کے احکامات دے۔