قندوز میں جھڑپ، طالبان کا مزید تین اضلاع پر قبضے کا دعویٰ

افغانستان کے شمالی شہر قندوز کے مضافات میں پیر کے روز  طالبان اور افغان فورسز کے درمیان جھڑپ ہوئی ہے جبکہ طالبان نے تین اضلاع پر قبضہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق طالبان کا کہنا ہے کہ ایک ہفتے میں تین اضلاع پر قبضہ کیا گیا ہے
مئی کے آغاز میں جب امریکی فوجیوں کا انخلا شروع ہوا تو طالبان نے حکومتی فورسز کے خلاف کارروائیاں شروع کیں۔
مزید پڑھیں
طالبان کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے ملک کے 421 اضلاع میں سے 50 سے زیادہ پر قبضہ کیا ہے۔
طالبان کے کئی دعوؤں سے حکومت اتفاق نہیں کرتی اور آزادانہ ذرائع سے اس کی توثیق مشکل ہے۔
قندوز کی صوبائی کونسل کے رکن امرالدین ولی نے بتایا کہ ’طالبان کے جنگجو شہر کے دروازوں پر ہیں اور وہ افغان فورسز کے ساتھ لڑ رہے ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’طالبان جنگجوؤں نے ہائی وے پر پوزیشنزسنبھال رکھی ہیں جو قندوز کو قریبی صوبوں سے جوڑتی ہے۔‘
پیر کے روز طالبان نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے صوبہ قندوز کے امام صاحب ضلع پر قبضہ کر لیا ہے جو کہ تیسرا ضلع ہے جس پر ایک ہفتے کے دوران قبضہ کیا گیا۔

قندوز پر طالبان دو مرتبہ پہلے بھی مختصر عرصے کے لیے قابض رہے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)
قندوز پولیس کے ترجمان انعام الدین رحمانی نے افغان فورسز اور طالبان کے درمیان جھڑپ کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ فورسز نے 24 گھنٹوں میں تقریباً 50  طالبان کو ہلاک کیا ہے۔
طالبان اور افغان فورسز ایک دوسرے کو نقصان پہنچانے کے حوالے سے اکثر مبالغہ آرائی سے کام لیتے رہتے ہیں۔
طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’ہم نے شہر کے اردرگرد کارروائیاں شروع کی ہیں۔‘
طالبان اس شہر پر قبضے کے لیے بار بار کوشش کرتے رہے ہیں۔ یہ شہر تاجکستان کےی سرحد کے قریب ہے۔
طالبان ستمبر 2015 اور اس کے ایک سال بعد قندوز پر تھوڑے عرصے کے لیے قابض رہے۔ قندوزمیں پختونوں کی اکثریت ہے اور یہ طالبان کا مضبوط گڑھ رہا ہے۔
اس شہر کا محل وقوع تاجکستان کے ساتھ معاشی اور تجارتی تبادلوں کے حوالے سے اہم راہداری کا ہے۔

متعدد اضلاع سے افغان سکیورٹی فورسز اور طالبان کے درمیان جھڑپوں کی رپورٹس موصول ہوئی ہو رہی ہیں (فوٹو: اے ایف پی)
حالیہ ہفتوں میں جنگجؤوں نے شمالی افغانستان کے علاقوں پر قبضہ کرنے پر زیادہ توجہ دی اور سکیورٹی فورسز بڑے پیمانے پر ان حملوں کو روکنے میں ناکام رہیں۔
طالبان جنگجوؤں کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے شمالی صوبوں فاریاب، تخار اور بدخشاں کے متعدد اضلاع پر قبضہ کر لیا ہے اور حکومتی فورسز کو متعدد علاقوں میں پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا ہے۔
وزارت دفاع نے تصدیق کی ہے کہ حکومتی فوجی متعدد اضلاع سے پیچھے ہٹ چکے ہیں تاہم ان کا کہنا تھا کہ ان اضلاع کو واپس لیا جائے گا۔
طالبان افغانستان کے تقریباً ہر صوبے میں موجود ہیں اور کئی بڑے شہروں کو گھیرے میں لے رہے ہیں۔ اسی حکمت عملی کے تحت طالبان جنگجو 90 کی دہائی کے وسط میں بھی افغانستان کے زیادہ تر حصے پر قابض ہوئے تھے۔