قندھار سے انڈینز کا انخلا، ’ناقص گاڑی میں لفٹ لے کر سفر کرنے سے یہ تو ہونا تھا‘

افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا اور طالبان کی پیش قدمی سے وہاں حالات سختت کشیدہ ہوگئے ہیں۔
جہاں بہت سے ممالک اپنے سفارت مشن بند کر کے افغانستان سے نکل رہے ہیں وہیں انڈیا نے بھی قندھار میں اپنا قونصل خانہ عارضی طور پر بند کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے سفارتی عملے کو واپس بلا لیا ہے۔
انڈین اخبار دی ہندو نے حکومتی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ’انڈین ایئر فورس کے خصوصی طیارے کے ذریعے قونصل خانے کے تقریباً 50 ارکان اور انڈو تبتن بارڈر پولیس کے اہلکاروں کو نئی دہلی پہنچا دیا گیا ہے۔‘
مزید پڑھیں
ایک عہدیدار کا کہنا تھا کہ ’ہمارا مقصد یہ یقینی بنانا تھا کہ انڈین عملہ محفوظ ہو، ہم نے شہر میں لڑائی کے خطرے کو محسوس کیا جو ان کو مشکل صورت حال سے دو چار کر سکتا تھا۔‘
تاہم بات اتنی سادہ نہیں ہے۔ سنیچر کو افواج پاکستان کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل بابر افتخار نے کہا تھا کہ ’افغانستان میں انڈیا کی سرمایہ کاری ڈوبتی دکھائی دیتی ہے۔‘
انڈین اخبار ٹائمز آف انڈیا کے مطابق ’نائن الیون کے بعد انڈیا نے افغانستان میں تعمیر نو اور ریلیف کے کاموں میں تین ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کی ہے۔

انڈین انجینئرز کابل کے قریب شہتوت ڈیم بنانے میں بھی مدد کر رہے ہیں (فوٹو: ان سپلیش)
انڈین انجینئرز کابل کے قریب شہتوت ڈیم بنانے میں بھی مدد کر رہے ہیں اور افغانستان ان ابتدائی ممالک میں شمار ہوتا ہے جنہیں انڈیا نے کورونا ویکسین بھیجی تھی۔
سفارتی اور دفاعی امور کے ماہرین قندھار میں انڈین قونصلیٹ کے بند ہونے کو اہم واقعہ قرار دے رہے  ہیں اور سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اس حوالے سے تبصرہ بھی کر رہے ہیں۔
اس حوالے سے افواج پاکستان کے ایک سابق افسر لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ ہارون اسلم نے کہا کہ ’قندھار افغانستان میں انڈین قونصل خانہ طالبان کی پیش قدمی کی وجہ سے بند ہو گیا ہے۔ یہ بلوچستان میں دہشت گردانہ سرگرمیوں کا مرکز تھا۔ 50 سے زائد سٹاف کے افراد اور را ایجنٹ واپس انڈیا فرار ہو گئے ہیں۔ انڈیا افغانستان میں بری طرح ہار رہا ہے۔‘
سویڈن کی اُپسالا یونیورسٹی سے وابستہ انڈین پروفیسر اشوک سوائن نے بھی انڈین قونصل خانے کے بند ہونے ہر طنز کرتے ہوئے کہا کہ ’طالبان کے کنٹرول سنبھالتے ہی انڈیا نے اپنے عہدیداروں کو افغانستان کے قندھار سے نکالا۔ اگر آپ کسی کی مہنگی چمکیلی لیکن ناقص کار میں لفٹ لے کر سفر کرتے ہیں تو یہ ہونا ہی تھا۔‘
افغانستان میں انڈیا کی صورت حال کے حوالے سے انڈین میں پاکستان کے سابق ہائی کمشنر عبدالباسط نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ’کاش انڈیا سمجھدار ہوتا اور افغانستان کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے پیڈ کے طور پر استعمال نہ کرتا۔ اسے تنازع کشمیر سے نمٹنے میں بھی کچھ پختگی دکھانی چاہیے تھی۔ غرور میں مبتلا انڈیا خطے میں عدم استحکام کی علامت ہے۔‘
خیال رہے کہ کچھ روز قبل افغان طالبان نے ایران کے ساتھ اہم سرحدی گزرگاہ سمیت افغانستان کے 85 فیصد علاقے کا کنٹرول سنبھالنے کا دعویٰ کیا تھا۔
ماسکو میں طالبان کے ایک وفد میں شامل عہدے داروں کا  کہنا تھا  کہ ’انہوں نے افغانستان کے 398 اضلاع میں سے 250 اضلاع پر قبضہ کر لیا ہے  لیکن اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔‘