قندھار میں بھی مقامی لوگوں کا مطالبات کے حق میں مظاہرہ

پنج شیر کے بعد قندھار میں بھی مقامی لوگوں نے دعویٰ کیا کہ طالبان کی جانب سے انہیں اپنے گھروں سے نکلنے کا حکم دیا گیا ہے۔

قندھار میں آج سیکڑوں لوگوں نے طالبان کی اس مبینہ حکم کے بعد احتجاجی ریلی نکالی تھی جس میں خواتین کی بھی ایک بڑی تعداد شریک تھیں۔

بی بی سی پشتو کے مطابق وزارت دفاع کی ملکیت قندھار کے اس علاقے میں تقریباً تین ہزار ایسے لوگ رہائش پزیر ہیں جن کی اکثریت سابقہ حکومت کے ملازمین پر مشتمل ہیں۔

سوشل میڈیا پر گردش گرتی ویڈیوز میں صوبائی سیکرٹریٹ کے باہر مظاہرے میں شریک لوگوں کا کہنا ہے کہ انہیں طالبان کی جانب سے علاقہ خالی کرنے کا حکم ملا ہے ہمیں بتایا جائے کہ ہم اپنے بچوں سمیت کہاں جائیں۔

مقامی ذرائع کے مطابق یہ سرکاری زمین ہے جس پر لوگوں نے اپنے پیسوں سے مکانات بنائے ہیں جن میں ایسے لوگ بھی شامل ہیں جو انتہائی غریب ہیں۔

طالبان کی قبضے کے بعد مقامی رہائشیوں نے یہ الزام بھی لگایا تھا کہ طالبان اس علاقے میں اپنے لوگوں بسانا چاہتے ہیں۔

واضح رہے کہ کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد سے ملک کے مختلف حصوں میں اس وقت احتجاجی مظاہرے جاری ہیں جس میں خواتین اور میڈیا سے وابستہ لوگ قابل ذکر ہے۔

تازہ ترین

شمالی وزیرستان: سیکورٹی فورسزکےآپریش میں 2دہشتگرد ہلاک
وزیراعلیٰ بلوچستان کےخلاف ’عدم اعتماد‘ کی تحریک جمع
ڈسٹرکٹ ایسٹ اور سینٹرل میں تجاوزات کیخلاف آپریشن جاری
قندھار میں بھی مقامی لوگوں کا مطالبات کے حق میں مظاہرہ