قومی اسمبلی میں شور شرابہ، شہباز شریف تیسرے دن بھی تقریر مکمل نہ کرسکے

بدھ کے روز قومی اسمبلی کا اجلاس مختصر کارروائی کے بعد جمعرات کو دن 12 بجے تک کے لیے ملتوی کر دیا گیا۔
شروع ہوا تو سپیکر اسد قیصر نے رولنگ دی کہ ’جب تک حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کوئی مفاہمت نہیں ہوتی اجلاس نہیں چلایا جاسکتا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’گذشتہ روز ارکان کی جانب سے جو الفاظ استعمال کیے گئے وہ اس ایوان کی توہین ہے۔‘
 مسلم لیگ ن کے رانا تنویر نے تجویز دی ہے کہ اس حوالے سے پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے۔
سپیکر نے کہا کہ ’حکومت اور اپوزیشن اپنے چھ چھ ارکان کے نام دیں تاکہ ایوان کو چلانے کے ضوابط طے کیے جاسکیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ میں چاہتا ہوں کہ اس حوالے سے رولز کو بھی دیکھا جائے‘ تاہم اپوزیشن نے اپنے ارکان کے نام دینے دینے سے انکار کر دیا۔
مزید پڑھیں
کچھ دیر بعد اجلاس دوبارہ شروع ہوا تو اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے اپنی تقریر کا آغاز کیا تاہم اس دوران حکومتی ارکان کا شور شرابہ جاری رہا۔ 
صورت حال خراب ہوتا دیکھ کر سپیکر نے اجلاس جمعرات دن 12 بجے تک ملتوی کر دیا۔
نازیبا الفاظ استعمال کرنے والے ارکان معطل
اس سے قبل سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے ایوان میں ہنگامہ آرائی اور غیر پارلیمانی زبان استعمال کرنے والے سات حکومتی اور اپوزیشن ارکان کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے اسمبلی میں داخلے پر پابندی عائد کر دی ہے۔
قومی اسمبلی اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے بدھ کو جاری کیے گئے بیان کے مطابق سپیکر نے گذشتہ روز ایوان میں ہنگامہ آرائی اور غیر پارلیمانی زبان استعمال کرنے پر قواعد کے تحت کارروائی کرتے ہوئے اسمبلی حدود میں داخلے پر پابندی عائد کی ہے۔
ترجمان قومی اسمبلی کے مطابق ’یہ پابندی اگلے احکامات تک جاری رہے گی۔ جن اراکین پر پابندی لگائی گئی ہے ان میں پاکستان تحریک انصاف کے تین ارکان علی نواز اعوان، عبدالمجید خان اور فہیم خان، مسلم لیگ ن کے بھی تین ارکان شیخ روحیل اصغر، علی گوہرخان، چوہدری حامد حمید اور پیپلز پارٹی کے آغا رفیع اللہ شامل ہیں۔

سپیکر اسد قیصر نے پی ٹی آئی اور ن لیگ کے تین تین جبکہ پیپلز پارٹی کے ایک رکن کو معطل کیا (فوٹو: قومی اسمبلی ٹوئٹر)
قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب اس سلسلے میں متعلقہ اراکین اور اسمبلی سکیورٹی کو احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔ سکیورٹی عملے کو حکم دیا گیا ہے کہ ’وہ ان ارکان کو ایوان میں داخل نہ ہونے دیں۔‘
احکامات کے بعد مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی علی گوہر بلوچ کو ایوان میں داخل ہونے سے روک دیا گیا۔
سکیورٹی سٹاف کی جانب سے انہیں بتایا گیا کہ ’ان کا نام معطل اراکین کی فہرست میں شامل ہے۔‘
خیال رہے کہ منگل کو قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی تقریر کے دوران حکومتی اراکین کے شدید شور شرابے اور نعرے بازی کے بعد اجلاس ملتوی کر دیا گیا تھا۔
اجلاس کی کارروائی ملتوی ہونے کے بعد ایوان میں حکومتی اور اپوزیشن اراکین میں جھڑپ بھی ہوئی۔ پی ٹی آئی کے اسلام آباد سے رکن قومی اسمبلی اور وزیراعظم کے معاون خصوصی علی نواز اعوان نے مسلم لیگ کے رکن شیخ روحیل اصغر کو کتاب دے ماری۔

شہباز شریف اور بلاول بھٹو زرداری کے درمیان بجٹ اجلاس کے حوالے سے لائحہ عمل پر گفتگو ہوئی (فوٹو: مسلم لیگ ن)
اس دوران حکومتی اور اپوزیشن ارکان آپس میں گتھم گتھا ہو گئے اور ایک دوسرے کے خلاف نعرے بازی کی۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور وزیر اطلاعات فواد چوہدری سمیت وفاقی وزرا بھی اپنی نشستوں پر کھڑے ہو گئے اور نعرے بازی کرتے رہے۔ سپیکر نے ارکان اسمبلی کو ویڈیوز بنانے سے روک دیا۔
اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی تقریر کے دوران مسلم لیگ ن کے ارکان نے انہیں گھیرے رکھا جبکہ حکومتی ارکان ان کے خطاب میں مسلسل خلل ڈالتے رہے۔ 
ہنگامہ آرائی کے دوران قومی اسمبلی کے سارجنٹس ارکان میں بیچ بچاؤ کراتے رہے۔ اس دوران بجٹ دستاویزات لگنے سے ایک سارجنٹ زخمی بھی ہوگئے۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں ہنگامہ آرائی کے دوران بجٹ دستاویزات لگنے سے کئی ارکان زخمی بھی ہوگئے۔

شہباز شریف اور بلاول بھٹو زرداری کی ملاقات

دوسری جانب بدھ کو قائد حزب اختلاف شہباز شریف اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی پارلیمنٹ ہاؤس میں ملاقات ہوئی۔

بدھ کو اجلاس شروع ہوا تو حکومتی اور اپوزیشن ارکان نے دوبارہ ایک دوسرے کے خلاف نعرے بازی کی (فوٹو: قومی اسمبلی ٹوئٹر)
شہباز شریف اور بلاول بھٹو زرداری کے درمیان بجٹ اجلاس کے حوالے سے لائحہ عمل پر گفتگو ہوئی۔
ملاقات کے بعد شہباز شریف نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’کل جو ہوا وہ پارلیمان کی تاریخ میں سیاہ دن تھا، اس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ وزرا کا رویہ سب نے دیکھ لیا ہے۔‘
قائد حزب اختلاف کا مزید کہنا تھا کہ ’بلاول بھٹو اظہار یکجہتی کے لیے آئے تھے، میں ان کا شکر گزار ہوں۔ ہم نے آئندہ کی سیاسی حکمت عملی پر مشاورت کی ہے، اپوزیشن مل کر اس پر عمل درآمد کرے گی۔‘
اس موقع پر بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ ’شہباز شریف قائد حزب اختلاف ہیں اور اپوزیشن کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان کے ساتھ جو رویہ اختیار کیا گیا اس سے وزرا کی کیا عزت رہ گئی ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’آئندہ کی سیاسی حکمت عملی پر مشاورت کی ہے مل کر عمل کریں گے۔‘