قومی اسمبلی کی نشست سے فیصل واوڈا مستعفی

استعفی کی کاپی اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش

پاکستان تحریک انصاف کےرکن قومی اسمبلی فیصل واوڈا قومی اسمبلی کی نشست سےمستعفی ہوگئےاوراپنا استعفی اسپیکر قومی اسمبلی کو بھجوادیا ہے۔ان کےاستعفی کی کاپی اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش کردی گئی ہے۔ہائی کورٹ میں نااہلی کے لئے دائر درخواست غیرموثر قرار دینے کی استدعا کردی گئی ہے۔فیصل واؤڈا کا استعفی درخواست گزار کے وکیل کو فراہم کردیا گیا ہے۔اسلام آبادہائی کورٹ نے فیصل واؤڈا کے نااہل ہونے یا کیس غیرموثرہونےسے متعلق فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔

بدھ کو قومی اسمبلی میں سینیٹ انتخابات کے لیے ووٹ کاسٹ کرنےکےبعد فیصل واوڈا نے اپنی نشست چھوڑدی۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں فیصل واوڈا کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ پی ٹی آئی رہنما نے استعفیٰ آج9بجکر35منٹ پرجمع کرایا۔وکیل کی جانب سے بتایا گیا کہ نشست کو ہی بنیاد بنا کر نااہلی کی درخواست دائر کی گئی تھی۔ درخواست میں کہا گیا تھا کہ کاغذات نامزدگی جمع کراتے ہوئے بیان حلفی میں غلط بیانی کی تھی۔

درخواست گزارمیاں فیصل کےوکیل بیرسٹر جہانگیر جدون نے اعتراض کیا کہ فیصل واوڈا نے آج صبح ہی سینیٹ انتخابات کےلیے قومی اسمبلی میں اپنا ووٹ کاسٹ کیا ہے۔ جب تک استعفیٰ قبول نہ ہو وہ رکن اسمبلی ہی تصورکئےجائیں گے۔ الیکشن کمیشن سےنشست خالی ہونےکانوٹیفکیشن بھی ضروری ہے۔درخواست گزار نے بتایا کہ اعتراض فیصل واؤڈا کے صادق اور امین سے متعلق ہے۔فیصل واؤڈا کے 11جون 2018 کو جمع کرائے گئے کاغذات نامزدگی ریٹرننگ افسر نے 18 جون کو منظور کیے۔انھوں نےامریکی شہریت ترک کرنے کی درخواست 22 جون کو جمع کرائی اورکاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت فیصل واؤڈا امریکی شہریت رکھتے تھے جس کوچھپایا۔لہذاسپریم کورٹ کےفیصلے پہلے سے موجود ہیں جو ظاہر کرتے ہیں کہ اس دن اگر وہ غلط بیانی کرنے کے مرتکب پائے گئے ہیں تو وہ صادق اور امین نہیں رہ سکتے۔

اسلام آبادہائی کورٹ میں یہ کیس ایک سال 3 ماہ تک زیرسماعت رہا۔اسلام آبادہائی کورٹ کےجسٹس عامر فاروق نےکہا کہ ایک بات فیصل واؤڈا کے وکیل نے کہی اورایک درخواست گزار نے،دونوں کے دلائل کی روشنی میں فیصلہ جاری کروں گا۔انھوں نے کہا کہ دوہری شہریت پرنااہلی تاحیات نہیں ہوتی۔ دوہری شہریت پر نااہلی صرف الیکشن کی حد تک ہوتی ہے۔

آٹھ روز قبل سندھ ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی رہنما فیصل واوڈا کے سینیٹ الیکشن 2021 میں حصہ لینے کے خلاف دائر اپیلیں مسترد کرتے ہوئے انہیں اہل قراردیا۔سندھ ہائی کورٹ کی جانب سےالیکشن ٹریبونل کا فیصلہ برقراررکھا گیا۔ دائردرخواست میں مؤقف اپنایاگیاتھاکہ فیصل واوڈا نےامریکی شہریت سے متعلق حقائق چھپائے۔ریٹرنگ افسر کے سامنے اعتراضات دائر کئےمگر انہوں نےسننےسےانکارکیا۔دائر درخواست میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ پی ٹی آئی رہنما کےحقائق چھپانےپروہ عوامی عہدےکے لیے نااہل ہیں۔ فیصل واوڈا کے کاغذات نامزدگی مسترد کیے جائیں۔

متعلقہ خبریں