قومی مفاد کے لیے نواز شریف کے پاؤں پکڑنے کو بھی تیار ہوں: شہباز شریف

پاکستان مسلم لیگ کے صدر اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے کہا کہ نواز شریف ایک سٹیٹسمین ہیں، اور وہ گارنٹی دیتے ہیں کہ وہ نیشن بلڈنگ کے لیے راضی ہوں گے۔
’اگر ہم ایک ریکنسیلیشن اور نیا عمرانی معاہدہ کریں، فری اینڈ فیئر الیکشن ہو اور تمام ادارے اپنی حدود میں رہ کر کام کریں، تو تمام متعقلہ اداروں کے ساتھ مل کر ملک کو مشکلات سے نکالنے کے لیے روڈ میپ طے کر سکتے ہیں۔ اور نواز شریف اس کے لیے تیار ہوں گے۔‘
دنیا نیوز پر کامران خان کو انٹرویو دیتے ہوئے شہباز شریف نے کہا پاکستان کو درپیش چیلینجز کے حوالے سے ہمیں اپنی انا سے اوپر اٹھ کر آگے بڑھنا ہوگا۔ اگر ہم نے پاکستان کو صیحح معنوں میں سوشل ویلفیرسٹیٹ بنانا ہے تو ہمیں تنظیم اور اتحاد کو اپنا اوڑھنا بچھوڑنا بنانا ہوگا۔
مزید پڑھیں
حکومت کے ساتھ مفاہمت کے سوال پر کہا کہ یہ سلیکٹڈ گورنمنٹ ہے اور بڑے پیمانے پر دھاندلی کے ذریعے اقتدار میں آئی ہے۔ اس ملک میں ذوالفقارعلی بھٹو کو پھانسی اور نواز شریف کو جلاوطن کیا گیا۔ نوازشریف نے پاکستان کے مفادات کو ہمیشہ مقدم رکھا۔
ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ جنرل باجوہ نے خود کہا ہے کہ نواز شریف نے بڑی عزت دی اور ڈیفینس کے حوالے سے کسی بات کا انکار نہیں کیا۔
’ہم انسان ہیں اور انسانوں کا انسانوں سے واسطہ پڑتا ہے گھرکے اندر بھی برتن آپس میں ٹکرا جاتے ہیں۔ کیا ہم ماضی کے قیدی رہیں۔ کنفرنٹیشن ہمارا راستہ نہیں ہم یہ چاہتے ہیں ہمارا راستہ مشاورت ہو۔ اس کے بغیر یہ ملک آگے نہیں چل سکتا۔ ہمیں مشاورت کے ساتھ، آئین کی حکمرانی اور تمام ادارے اپنے دائرے میں رہ کر آگے بڑھیں۔ مشاورتی عمل اور اجتماعی بصیرت کے ذریعے  ہم ملک کو ان مسائل سے نکال سکتے ہیں۔‘
جب پوچھا گیا کہ کیا آپ نواز شریف کو اپنے ان خیالات پر قائل کریں گے  تو شہباز شریف نے کہا نواز شریف بھی انسان ہیں ان کے ساتھ جو کچھ ہوا، پانامہ سے اقامہ ہوا۔ ان کے اہل خانہ کو گرفتار کیا گیا۔ نیب نیازی گٹھ جوڑ میں ان کو اذیتیں دی گئیں۔ اس کے باوجود میں گارنٹی دیتا ہوں کہ وہ نیشن بلڈنگ کے لیے راضی ہوں گے۔‘

شہباز شریف نے کہا کہ موجودہ حکومت سلیکٹڈ ہے اور بڑے پیمانے پر دھاندلی کے ذریعے اقتدار میں آئی ہے (فوٹو: اے ایف پی)
’اگر ہم ایک ری کنسیلیشن اور نیا عمرانی معاہدہ کریں، فری اینڈ فیئر الیکشن ہو اور تمام ادارے اپنی حدود میں رہ کر کام کریں، عدلیہ آزاد ہو، آئین اور قانون کی حکمرانی ہو اور تمام ایشوز پر مشاورتی عمل ہو تو تمام متعقلہ اداروں کے ساتھ مل کر روڈ میپ طے کر سکتے ہیں۔ اور آج بھی یہ کرسکتے ہیں اور اس کے لیے نواز شریف صاحب تیار ہوں گے۔‘
’جب میں جاؤں گا لندن علاج کے لیے تو میں ان کے ساتھ مشاورت کروں گا۔ وہ میرے بڑے بھائی، قائد اور والد کی جگہ ہیں۔ اور وہ راضی ہوں گے بشرطیکہ لیول پلیئنگ فیلڈ ہو۔‘
شہبازشریف نے کہا کہ قومی مفاد کے لیے اگر نواز شریف کے پاؤں بھی پکڑنا پڑیں تو میں یہ کروں گا کیونکہ یہ قومی مفاد کا معاملہ ہے۔‘     
چودھری نثار علی خان کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں شہباز شریف کا کہنا تھا کہ  ان کے ساتھ 30 سالہ تعلق غلط موڑ پر ٹوٹا۔  ’چودھری نثار کے حلف پر کوئی مشاورت نہیں ہوئی۔‘
ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حکومت مخالف اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کا قیام عمل میں آیا تو اس وقت وہ جیل میں تھے۔ وہاں میں پارٹی کے سینئر لوگوں کو مشورے دیتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کے اتحاد بنتے اور ٹوٹتے رہتے ہیں۔  شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم میں کوئی ایک جماعت کسی کو نکالنے یا رکھنے کی مجاز نہیں ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ پی ڈی ایم میں 10 پارٹیاں ہیں، مشاورت سے تمام فیصلے ہوتے ہیں۔ ہم نے بجٹ میں ان کو بے نقاب کرنا ہے۔ جب یہ ریاست مدینہ کی بات کرتے ہیں تو مجھے خوف آتا ہے۔ ان کو احتیاط کے ساتھ ریاست مدینہ کا نام لینا چاہیے۔