قیدی پر قرآن کی بےحرمتی کاالزام، ایبٹ آباد میں احتجاج

شاہراہ ریشم پر دھرنا

ایبٹ آباد جیل میں قیدی کی جانب سے قرآن مجید کی مبینہ بے حرمتی کے خلاف شہر میں ہنگامے پھوٹ پڑے۔ مشتعل ہجوم نے جیل پر دھاوا بول دیا جبکہ مظاہرین نے شاہراہ ریشم ٹریفک کیلئے بند کردی۔ جیل حکام کے مطابق ملزم قیدی کا ذہنی توازن خراب ہے۔

ایبٹ آباد جیل کے اہلکار نے تھانہ سٹی میں مقدمہ درج کرانے درخواست دیتے ہوئے بیان دیا کہ جیل میں ایک قیدی نے قرآن مجید کی بے حرمتی کی ہے اور دو اہلکاروں نے اس قیدی کو ایسا کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ تھانہ سٹی پولیس نے ملزم کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295 ب کے تحت مقدمہ درج کرلیا۔

قیدی کے اس اقدام پر دوسرے قیدی مشتعل ہوگئے اور اس پر حملہ کردیا۔ جس پر پولیس کی بھاری نفری نے پہنچ کر قیدی کو چھڑایا اور اسے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا جبکہ جیل کے اندر قیدیوں کا احتجاج جاری ہے۔

جیل حکام کے مطابق ملزم قیدی کا ذہنی توازن ٹھیک نہیں۔ وہ جیل کے مینٹل اسپتال میں داخل رہ چکا ہے جبکہ اس کو جیل کے اندر بھی الگ سیل میں رکھا گیا تھا جہاں باہر نکلتے وقت بھی اس کے ساتھ پولیس اہلکار ہوتے تھے۔

تھانہ سٹی میں درج ہونے والی ایف آئی آر کے مطابق ملزم پر ماضی میں بھی قرآن مجید کی بے حرمتی کا الزام تھا اور اسی الزام 2019 سے جیل میں قید ہے۔

دوسری جانب خبر پھیلنے کے بعد مظاہرے شہر بھر میں احتجاج شروع ہوا اور مشتعل ہجوم نے جیل پر دھاوا بول دیا۔ جیل کے اندر اور باہر پولیس کی شلینگ اور لاٹھی چارج کے دوران متعدد افراد زخمی ہوگئے۔

فوارہ چوک سمیت مختلف مقامات پر مظاہرین نے شاہراہ ریشم کو ہرقسم آمدورفت کیلئے بند کردیا ہے اور تاجروں نے شٹر ڈاون کردیے۔ رات گئے فوارہ چوک سمیت منڈیاں اور مرکزی بازار میں بھی مظاہرے شروع ہوئے۔ پولیس اور مظاہرین کے مابین مذاکرات جاری ہیں۔

متعلقہ خبریں