’لاسٹ اینڈ لو‘، چینی شہری نے 24 برس بعد اغوا کیا گیا بیٹا تلاش کر لیا

منگل 13 جولائی 2021 20:19

سمگلروں نے گوو گنگ تینگ کے بیٹے اغوا کیا تھا۔ (فوٹو: گلوبل ٹائمز)

چین میں ایک شہری کو 24 سال کی مسلسل تلاش کے بعد اپنا اغوا شدہ بیٹا دوبارہ مل گیا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پورے ملک میں بیٹے کو ڈھونڈنے کے لیے گوو گنگ تینگ نے پانچ لاکھ کلومیٹر کا سفر کیا، اس دوران ان کو مشکلات کا بھی سامنا رہا۔
گوو گنگ تینگ کا بیٹا دو سال اور پانچ ماہ کا تھا جب اس کو مشرقی صوبے شینڈونگ میں اپنے گھر کے سامنے سے اغوا کیا گیا۔ جہاں وہ گھر کے کسی فرد کی عدم موجودگی میں کھیل رہا تھا۔
مزید پڑھیں
پبلک سکیورٹی کی وزارت نے منگل کو بتایا کہ سمگلروں نے گوو گنگ تینگ کے بیٹے کو اغوا کرنے کے بعد مرکزی چین میں ایک خاندان کو فروخت کیا تھا۔
برسوں کی تلاش کے بعد اتوار کو پولیس نے گوو گنگ تینگ کو بتایا کہ ڈی این اے ٹیسٹ نے تصدیق کی ہے کہ ہنان صوبے میں رہنے والا 26 سالہ ٹیچر ان کا بیٹا ہے۔
ریاستی نیوز سروس کے تحت جاری ایک ویڈیو میں گوو گنگ نے اپنے بیٹے کے ملنے پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔
سنہ 1997 میں بیٹے کے اغوا کے بعد گوو گنگ نے 27 برس کی عمر میں اپنے بیٹے کی تلاش کے لیے نوکری چھوڑی اور ملک بھر میں موٹر سائیکل پر اپنے بیٹے کو ڈھونڈنے کے لیے نکل گئے۔ موٹر سائیکل پر لگے ایک بڑے سے جھنڈے پر ان کے بیٹے کی تصویر تھی۔
پانچ لاکھ کلومیٹر طویل سفر میں ان کو سڑکوں پر ڈاکوؤں سے لڑنا پڑا، وہ پلوں کے نیچے سوتے اور جب ان کے پاس پیسے ختم ہو جاتے تووہ بھیک بھی مانگتے۔

گوو گنگ تینگ نے بیٹے کی تلاش میں کافی مشکلات کا سامنا کیا۔ (فوٹو: من نیوز)
ان کے بیٹے کے اغوا پر 2014 میں چینی بلاک بسٹر فلم ’لاسٹ اینڈ لو‘ بھی بنائی گئی تھی۔
گذشتہ برسوں کے دوران گوو نے سات خاندانوں کو ان کے گمشدہ بچوں کی تلاش میں مدد کی اور بچوں کی ٹریفکنگ کے حوالے سے لوگوں کو آگاہ بھی کیا۔ بچوں کی ٹریفکنگ کا موضوع اب بھی چین میں ممنوع ہے۔
گوو نے صحافیوں کو بتایا کہ انہوں نے اس شہر کا سفر کیا تھا جہاں ان کا بیٹا پلا بڑھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس شہر میں کسی اور والد کو اپنا بیٹا ڈھونڈنے میں مدد کر رہے تھے۔
سرکاری اخبار گلوبل ٹائمز کے مطابق اس کیس سے منسلک دو مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ پولیس نے اس خاندان کے بارے میں معلومات فراہم نہیں کیں جس نے گوو کے بیٹے کو خریدا تھا۔