لاپتہ افرادکیس: وفاقی سیکریٹری داخلہ نے غیرمشروط معافی مانگ لی

Sindh-High-Court-1

فوٹو: سماء ڈیجیٹل

سندھ ہائی کورٹ نے وفاقی سیکرٹری داخلہ کا غیر مشروط معافی نامہ قبول کرتے ہوئے وفاقی سیکرٹری داخلہ کو آئندہ سماعت پر تفصیلی جواب کے ساتھ پھر پیش ہونے کا حکم دے دیا۔

جمعرات 27مئی کو ہائیکورٹ میں لاپتا افراد کیسز کی سماعت ہوئی جس میں وفاقی سیکرٹری داخلہ، اٹارنی جنرل اور دیگر پیش ہوئے۔

وفاقی سیکریٹری داخلہ نے عدم پیشی پر عدالت سے غیر مشروط معافی مانگی اور شوکاز نوٹس کا تحریری جواب بھی جمع کرا دیا۔  تحریری جواب میں وفاقی سیکریٹری داخلہ نے کہا کہ عدالتوں کا احترام کرتا ہوں اور مصروفیت کی وجہ سے پیش نہیں ہوسکا۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ حکم کی تعمیل نہ ہونے پر وفاقی سیکرٹری داخلہ کے وارنٹ جاری کیے، جس پر وفاقی سیکرٹری داخلہ نے کہا کہ عدالت سے غیر مشروط معافی چاہتا ہوں اور یقین دلاتا ہوں آئندہ عدالتی حکم پر عمل درآمد ہوگا۔ قانون کے مطابق تمام شہروں کا تحفظ ہم سب کی ذمہ داری ہے۔

جسٹس کے کے آغا نے ریمارکس دیے کہ جبری گمشدگی کا مسئلہ انتہائی اہم ہے اور اسے ختم کرنا ہوگا۔ اٹارنی جنرل خالد جاوید نے جواب دیا کہ انسانی حقوق کے لیے وفاقی حکومت کام کر رہی ہے۔

کے پی حراستی مرکز سے متعلق عدالت کے سوال پر اٹارنی جنرل نے بتایا کہ کے پی حراستی مراکز کی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کر دی ہے، مراکز میں سندھ سے لاپتا تین افراد کی نشاندہی ہوئی ہے۔ وفاقی حکومت ترجیح بنیادوں پر اس معاملے کو دیکھ رہی ہے۔

جسٹس کے کے آغا نے ریمارکس دیے کہ خبیر پختونخواہ میں تو تحریک انصاف کی حکومت ہے اور وفاقی حکومت کا خبیر پختونخواہ حکومت کے ساتھ بھر پور ورکنگ ریلیشن شپ ہونا چاہیے۔ وفاقی وزارت داخلہ طاقت ور ترین وزرات ہے۔

جسٹس کے کے آغا نے استفسار کیا کہ کیا شہریوں کی جبری گمشدگی کا تاثر قابل قبول ہے؟ وفاقی سیکریٹری داخلہ نے کہا کہ جبری گمشدگی بالکل قابل قبول نہیں۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ وفاقی حکومت لاپتا افراد کے معاملے پر انتہائی سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔

دوران سماعت وزارت خارجہ نے بھی اپنا تحریری جواب جمع کرا دیا۔

جسٹس کے کے آغا نے ہدایت کی کہ جسٹس جاوید اقبال کمیشن کے علاوہ سندھ ہائیکورٹ میں زیر سماعت کیسز کو بھی دیکھا جائے۔ انہوں نے ریمارکس دیے کہ جبری گمشدگیوں کے معاملے پر بیرون ملک پاکستان کی بدنامی ہو رہی ہے۔

اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ قانون سازی کی جاری ہے اس لیے تفصیلات پیش کرنے کے لیے مہلت دی جائے۔ عدالت نے کہا کہ عدالتی حکم نامہ دیگر لاپتا افراد کیسز میں بھی لاگو ہوگا۔

عدالت نے لاپتا افراد کیسز کی مزید سماعت 4 اگست تک ملتوی کر دی۔

متعلقہ خبریں