لاڑکانہ میں میرے قافلے پرحملہ ہوا، حلیم عادل کا دعویٰ

ترجمان سیال ہاؤس نے الزامات مسترد کر دیے

سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حلیم عادل شیخ نے دعویٰ کیا ہے کہ لاڑکانہ میں یار محمد لاشاری کے قریب میرے قافلے پر حملہ کیا گیا۔

اپنے ویڈیو پیغام میں حلیم عادل شیخ نے الزام لگایا کہ گاڑی پر پتھراؤ کرنے والے 5افراد تھے جس میں سے 2مسلح بھی تھے۔ صوبائی وزیر سہیل انور سیال کو حلقہ ہے اور اسی کے لوگوں نے مجھ پر حملہ کروایا۔

اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ مجھ پر پانچویں بار حملہ ہوا ہے لیکن پولیس حکومت کی تابع بنی ہوئی ہے۔ انصاف کی کوئی امید نہیں اس لیے کوئی ایف آئی آر نہیں کٹوا رہا۔

حلیم عادل نے دعویٰ کیا کہ قافلے میں پولیس موبائل بھی تھی اور حملے کے وقت اہکار آگے نکل گئے۔ انہوں نے کہا کہ میرے گارڈز اترے تو حملہ آور فرار ہوگئے، یہ مجھے مارنے کی سازش تھی۔

واقعے پر ایس ایس پی لاڑکانہ عمران قریشی کا کہنا تھا کہ بچوں نے گاڑی کے اوپر گوبر پھینکا ہے البتہ معاملے کی مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

دوسری جانب ترجمان سہیل ہاؤس نے حلیم عادل شیخ کے الزامات مسترد کر دیے ہیں۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ حلیم عادل سیاست چھوڑ کر ڈرامے بنانا شروع کر دیں، پیپلز پارٹی ڈراموں کی سیاست نہیں کرتی۔

ترجمان کے مطابق حلیم عادل کی گاڑی پر پتھراؤ کے نشان نظر نہیں آرہے۔ سندھ سے پی ٹی آئی کو حمایت حاصل نہ ہونے پر حلیم عادل بکلاہٹ کا شکار ہیں۔ جھوٹا الزام لگانے پر حلیم عادل کے خلاف ہتک عزت کا نوٹس بھی بھیج رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں