لاک ڈاؤن میں پاکستان میں کسی کونوکری سےنہیں نکالاگیا،غلام سرور

ان حالات میں سرکاری ملازمین کی تنخواہیں 10 فیصد بڑھائی ہیں

غلام سرور نے کہا ہے کہ کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کےلیے ملک میں نافذ لاک ڈاؤن کے باعث پاکستان میں نہ ہی کسی کو نوکری سے نکالا گیا اور نہ تنخواہوں میں کٹوتی کی گئی۔

بدھ کو قومی اسمبلی اجلاس میں وفاقی وزیرغلام سرور نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کرونا وباء کے باعث پوری دنیا نے ملازمین کی تنخواہیں کاٹیں اور انھیں نوکریوں سے نکالا گیا ہے۔ حکومت نے ان حالات میں سرکاری ملازمین کی تنخواہیں 10 فیصد بڑھائی ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ سال 2018 میں حکومت کو 19 ارب ڈالر کا خسارہ ملا۔ حکومت نے پاور سیکٹر کو سبسڈیز دی ہیں۔ بیرون ملک پاکستانیوں کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ سمندر پار پاکستانی ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ترسیلات زر میں مسلسل اضافہ ہوا ہے اور بہت جلد ملک میں معاشی استحکام آئے گا۔ حکومت نے ایکسپورٹ سیکٹر کو مراعات دیں اور ملکی برآمدات 24 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں۔ ترسیلات زر 28 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں۔

وفاقی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ موجودہ حکومت نے 16 لاکھ اضافی پاکستانیوں کو بیرون ملک روزگار دلوایا۔ مسلم لیگ نون کو 3 بار وفاق اور  6بار پنجاب میں حکومت ملی لیکن نون لیگ کے دور میں سبزیاں بھی درآمد کی گئیں اورنون لیگ نے کبھی بھی کسان دوست بجٹ نہیں دیا۔ زراعت کے شعبے میں مزید سبسڈیز کی ضرورت ہے۔

شہبازشریف کی تقریر پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن لیڈر نے اپنی تقریر کے دوران نئے اور پرانے پاکستان کی بات کی۔ اپوزیشن لیڈر کہتے ہیں کہ انہیں نیا پاکستان نہیں بلکہ پرانا پاکستان چاہیے۔ وہ پرانے پاکستان والی کرپشن دوبارہ کرنا چاہتے ہیں۔

اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہم نے اراضی سینٹرز دیے ہیں اور لینڈ ریکارڈ کو کمپیوٹرائز کیا ہے۔ پٹواری اور تحصیلدار نچلی سطح پر کرپشن کرتا تھا۔6 بار وزارت اعلی نون لیگ کے پاس رہی ہے اور 35 برس میں انھوں نے راول پنڈی اور اسلام آباد کے لیے کیا کیا ہے۔ انھوں نے دعوی کیا کہ رنگ روڈ موجودہ حکومت کےدور میں مکمل ہوگا۔

متعلقہ خبریں