لاہور دھماکہ،گرفتارمبینہ ملزم کے گھر کا سراغ لگالیا گیا

لاہور میں جوہر ٹاؤن دھماکے کی تفتیش میں اہم پیش رفت ہوئی ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے واقعے میں ملوث گرفتار مبینہ ملزم کے گھر کا سراغ لگا لیا ہے۔

پولیس کے مطابق مبینہ ملزم ممکنہ طور پر کراچی کے علاقے محمود آباد کا رہائشی ہے۔قانون نافذ کرنے والے اداروں نے رات گئے ملزم کے گھر پر چھاپہ مار کر تلاشی لی اور چند دستاویزات قبضے میں لے لی ہیں۔چھاپے کے دوران کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔ ابتدائی تفتیش میں معلوم ہوا ہے کہ مبینہ ملزم بحرین میں اسکریپ اور ہوٹل کا کاروبارکرتا رہا ہے اوراس نے اپنے خاندان کو2010 میں بحرین سے پاکستان منتقل کیا۔ ملزم ڈیڑھ ماہ پہلے بحرین سےکراچی پہنچا تھا اور اس نے ڈیڑھ ماہ کے دوران 3 مرتبہ لاہور کا دورہ کیا۔ تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ 3 بار لاہور جانے کے دوران مبینہ ملزم مجموعی طور پر27روز لاہورمیں رہا اور لاہور میں قیام کے دوران مختلف افراد سے رابطوں کے شواہد بھی ملے ہیں۔پاکستان آنے کے دوران مبینہ ملزم کا امیگریشن ڈیٹا حاصل کرلیا گيا ہے۔

جمعہ کو لاہور کے ہوائی اڈے سے کراچی جانے والی پرواز سے ایک مشتبہ مسافر کو آف لوڈ کرکے حراست میں لیا گیا۔ تفتیشی ذرائع کے مطابق شبہ ہے کہ زیر حراست شخص کا تعلق لاہور جوہر ٹاؤن دھماکے سے ہے اور وہ طیارے کے ذریعے کراچی فرار ہونے کی کوشش کر رہا تھا اور اس کو حراست میں لے کر تفتیش کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا۔

دھماکے کا مقدمہ محکمہ انسداد دہشت گردی لاہور تھانے میں انسپکٹرعابد بیگ کی مدعیت میں درج کیا گیا۔ مقدمے میں 3 دہشت گردوں کو نامزد کیا گیا جس میں قتل، اقدام قتل اور دہشت گردی کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔مقدمے میں 7 اے ٹی اے، 3/4ایکسپلوزو ایکٹ سميت دیگر دفعات شامل ہیں۔درج ایف آئی آر کے مطابق دہشت گردوں نے کارروائی میں گاڑی اور موٹر سائیکل استعمال کی۔ مقدمے کے متن میں یہ بھی کہا گیا کہ دھماکے میں 3افراد جاں بحق اور 23 زخمی ہوئے۔ مقدمے میں 3 نامعلوم دہشت گردوں کا ذکر کیا گیا۔

لاہور کے علاقے جوہر ٹاؤن کی بی او آر سوسائٹی میں بدھ 23 جون کو دن ساڑھے 11 بجے ہونے والے دھماکے میں 3 افراد جاں بحق جبکہ 23 زخمی ہوگئے تھے۔

متعلقہ خبریں