لاہور دھماکےمیں ملوث اہم ملزمان گرفتار، آئی جی پنجاب انعام غنی

اس کارروائی میں ملک دشمن ایجنسی ملوث ہے

آئی جی پنجاب انعام غنی نے بتایا ہے کہ لاہور بم دھماکے کا ماسٹر مائنڈ، گاڑی خریدنے والا، اس کو تیار کرنے والا اور گاڑی میں بارودی مواد بھرنے اور پہنچانے والا شخص گرفتار کرلیا گیاہے۔

لاہور میں پیر کی دوپہر وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نےمعاون خصوصی فردوس عاشق اعوان، وزیر قانون راجا بشارت اور آئی جی پنجاب انعام غنی کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کی۔

وزیراعلیٰ نے بتایا کہ 23 جون کو جوہر ٹاؤن میں ہونے والا بم دھماکا گاڑی کے ذریعے کیا گیا۔دھماکہ خیز مواد گاڑی کی ڈگی میں نصب کیا گیا۔واقعے کے فوری بعد پنجاب حکومت نےتحقیقاتی ٹیمیں تشکیل دیں اور16 گھنٹے کے اندر ہی دھماکے کے کرداروں کی شناخت کی گئی۔4 روز کے اندر ہی دہشت گردوں کو گرفتار کیا گیا۔اس کارروائی میں ملک دشمن ایجنسی ملوث ہے۔

آئی جی پنجاب انعام غنی نے بتایا کہ دہشت گردوں کے پورے نیٹ ورک کو چند گھنٹوں میں ٹریس کرلیا۔ 10 کے قریب پاکستانی ایسے شہری ہیں جو اس واقعہ میں ملوث ہیں اور ان میں خواتین اور مرد شامل ہیں۔ یہ بھی تفتیش کی جائے گی کہ یہ افراد مزید کن واقعات میں ملوث رہے تاہم یہ ملزمان فورتھ شیڈول میں کبھی نہیں رہے۔

انعام غنی نے مزید بتایا کہ استعمال ہونےوالی گاڑی 2010 میں چھینی گئی اور 2011 میں ریکور ہوئی۔ بعد میں گاڑی سرداری کی گئی۔ واقعے میں ملوث ملزم کسی بھی پنجاب کے شہری سے اچھی پنجابی بولتا ہے۔

دھماکے کا مقدمہ محکمہ انسداد دہشت گردی لاہور تھانے میں انسپکٹرعابد بیگ کی مدعیت میں درج کیا گیا۔ مقدمے میں 3 دہشت گردوں کو نامزد کیا گیا جس میں قتل، اقدام قتل اور دہشت گردی کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔مقدمے میں 7 اے ٹی اے، 3/4ایکسپلوزو ایکٹ سميت دیگر دفعات شامل ہیں۔

درج ایف آئی آر کے مطابق دہشت گردوں نے کارروائی میں گاڑی اور موٹر سائیکل استعمال کی۔ مقدمے کے متن میں یہ بھی کہا گیا کہ دھماکے میں 3افراد جاں بحق اور 23 زخمی ہوئے۔ مقدمے میں 3 نامعلوم دہشت گردوں کا ذکر کیا گیا۔لاہور کے علاقے جوہر ٹاؤن کی بی او آر سوسائٹی میں بدھ 23 جون کو دن ساڑھے 11 بجے ہونے والے دھماکے میں 3 افراد جاں بحق جبکہ 23 زخمی ہوگئے تھے۔

متعلقہ خبریں