لاہور: قتل کاالزام، ملزم 10سال بعد بےگناہ قرار

Lahore High Court

فائل فوٹو

لاہور ہائیکورٹ نے ڈاکٹر کے قتل کے الزام میں عمر قید کی سزا پانے والے ملزم کو 10سال بعد بے گناہ قرار دے دیا۔

عدالت نے بروقت قانونی کارروائی اور متعلقہ فورم پر رجوع نہ کرنے پر ملزم کو بری کیا۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس وحید خان نے 12 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کر دیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ یہ طے شدہ قانون ہے کہ ایک چھوٹا سا شک بھی بریت کے لیے کافی ہے۔

مقتول کے والد نے واقعہ کے تین ماہ بعد انتہائی تاخیر سے استغاثہ دائر کیا۔ مقتول کا والد فوری طور پر پولیس کے اعلیٰ افسران یا پھر ہائیکورٹ کا فورم استمعال کرسکتا تھا لیکن ایسا نہیں ہوا۔ مقتول ڈاکٹر شبیر واقع کے 67 روز تک زندہ رہا لیکن پولیس نے صرف ایک بار بیان ریکارڈ کیا۔

کیس میں ایک اور عجیب چیز یہ ہے کہ شکایت کنندہ خود کو واقع کا عینی شاہد کہتا ہے لیکن وہ مقتول کو اسپتال نہیں لیکر گیا۔ پولیس نے ملزم سے تيس بور پستول برآمد کی لیکن فرانزک کے لیے نہیں بھجوایا۔

عدالت نے قرار دیا کہ ایف آئی آر کے متن کے مطابق ملزم احسان اللہ خان پر ڈاکٹر شبیر کو کلینک بند نہ کرنے پر فائرنگ کر کے قتل کرنے کا مقدمہ درج تھا۔ ملزم نے بازار میں ہوائی فائرنگ کرتے ہوئے متعدد دکانیں بند کرائیں اور کلینک بند نہ کرنے پر احسان اللہ نے ڈاکٹر کو فائرنگ کر کے قتل کیا۔

متعلقہ خبریں