’لاہور میں قتل ہونے والی خاتون برطانوی شہری نہیں‘، ملزمان کی تلاش جاری

میڈیا رپورٹس کے مطابق اس خاتون کو برطانوی شہری بتایا جا رہا تھا (فوٹو: جام پریس)

پاکستان کے شہر لاہور میں پراسرار طور پر قتل ہونے والی خاتون کی شناخت سے متعلق پولیس نے انکشاف کیا ہے کہ وہ برطانوی شہری نہیں تھیں۔
اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے مقدمے کے تفتیشی افسر جاوید میو نے بتایا کہ ’مائرہ ذوالفقار نامی خاتون جن کو ڈیفنس کے علاقے میں پیر کے روزقتل کیا گیا، ان کے پاسپورٹ سے پتا چلا ہے کہ وہ برطانوی شہری نہیں بلکہ بیلجیم کی پاکستانی نژاد شہری ہیں۔ تاہم ان کے شناختی دستاویزات میں برطانوی ڈرائیونگ لائسنس ملا ہے۔ اور ان کے والدین بھی برطانیہ میں مقیم ہیں۔‘ 
خیال رہے کہ تین مئی کو لاہور کے علاقے ڈیفنس میں کرائے کے مکان میں ایک نوجوان خاتون کی لاش ملی تھی جن کو گولی مار کے قتل کیا گیا تھا۔
مزید پڑھیں
میڈیا رپورٹس کے مطابق انہیں برطانوی شہری بتایا جا رہا تھا۔ تفتیشی افسر نے مزید بتایا کہ ’مائرہ کافی عرصے سے پاکستان میں رہ رہیں تھی لیکن ان کے خاندان کے زیادہ تر افراد کو نہیں پتا تھا کہ وہ کہاں ہیں، البتہ دومہینے قبل ان کی والدہ پاکستان ایک شادی میں شرکت کے لیے آئی تھیں۔‘
تفتیشی افسر نے کہا کہ ’مائرہ پاکستان میں ایک کرائے کے گھر میں اپنی سہیلی کے ساتھ اتنے عرصے سے کیوں رہ رہیں تھیں اس بات اور دیگر پہلوؤں پر تفتیش کی جا رہی ہے۔‘
تھانہ ڈیفنس بی میں درج ایف آر مقتولہ کے چچا محمد نذیر کی مدعیت میں درج کی گئی جس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ دو نوجوانوں سے متعلق انہوں نے اپنے چچا سے شکایت کی تھی کہ وہ انہیں ہراساں کر رہے ہیں اور دونوں ہی ان سے شادی کے خواہش مند ہیں۔ تاہم مائرہ ان دونوں میں سے کسی سے شادی نہیں کرنا چاہتی تھیں۔  
پولیس نے دو افراد ظاہر جدون اور سعد امیر بٹ کے خلاف قتل کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے، تاہم ابھی تک کو گرفتار نہیں کیا جا سکا۔
تفتیشی افسر جاوید میو کے مطابق ’ہمیں پوسٹ مارٹم رپورٹ مل چکی ہے جس کے مطابق مائرہ کو دو گولیاں ماری گئیں ہیں ایک گولی ان کی گردن پر لگی جو ان کے لیے جان لیوا ثابت ہوئی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ایف آئی آر میں جن دو افراد پر الزام عائد کیا گیا ہے ان کی گرفتاری کے لیے پولیس چھاپے مار رہی ہے انہیں جلد ہی گرفتار کر لیا جائے گا۔ اس کے بعد ہی صورت حال سامنے آئے گی کہ یہ معاملہ کیا تھا۔
تفتیشی افسر نے مزید بتایا کہ ’ہم نے مائرہ کی سہیلی کا بھی بیان قلمبند کیا ہے جن کے ساتھ وہ رہ رہی تھیں۔ تاہم انہوں نے بتایا ہے کہ وہ صبح گھر ان کو جب چھوڑ کے گئیں تو مائرہ سو رہی تھیں۔ جب واپس آئیں تو ان کی لاش خون میں لت پت دیکھ کر پولیس کو فون کیا۔‘