لاہور پولیس ریلوے ملازمہ کا قاتل ڈھونڈنے میں تاحال ناکام

قتل 3 ماہ قبل مقتولہ کے بیٹے کے سامنے ہوا

لاہور پولیس 3 ماہ قبل ہونے والے ایک سرکاری ملازمہ کے قتل کا معمہ حل کرنے میں تاحال ناکام ہے۔

شاليمار کے علاقے ميں 19 فروری کی صبح نامعلوم ملزم نے پاکستان ریلوے کی گریڈ 14 کی ملازمہ نائلہ کو کار پر فائرنگ کرکے قتل کردیا تھا۔ اس موقع پر ان کا 5 سالہ بچہ آریان بھی موجود تھا جس نے وہ تمام واردات اپنی آنکھوں سے دیکھی۔

چھتيس سالہ نائلہ نے شوہر کي وفات کے بعد دوسری شادی کی تھی اور ان کی والدہ نصرت بی بی کو شبہ ہے کہ دوسرا شوہر قتل ميں ملوث ہے تاہم مقتولہ کی والدہ 3 ماہ سے تھانوں کے چکر کاٹ کر اب تھک چکی ہیں لیکن پولیس اب تک قاتل کا پتہ لگا کر اسے گرفتار کرنے میں ناکام ہے۔مقتولہ کے موبائل فون سميت ديگر شواہد کی بنیاد پر ہونے والی تفتيش ميں پوليس کو کوئی کاميابی حاصل نہیں ہوسکی۔جائے وقوعہ پر مقتولہ کی کار آج بھی کھڑی ہے اور کم سن بچہ اس کے پاس روازنہ اس آس پر جاتا ہے کہ شايد اسے اپنی ماں مل جائے۔نائلہ کے 2 بچے دوسرے شوہر فياض کی تحويل ميں ہيں جبکہ آريان کا والد وفات پاچکا ہے اور ماں کے قتل کے بعد اس کی کفالت نانی کے ذمہ ہے۔

متعلقہ خبریں