لاہور:8 سالہ بچی کا ریپ کرنے والا ملزم گرفتار

لاہور: گرفتار ملزم پولیس اہلکاروں کے ہمراہ

لاہور کے علاقے یوحنا آباد میں اسکول کے اندر 8 سالہ بچی کا ریپ کرنے والے ملزم کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ متاثرہ بچی اور ملزم دونوں ایک ہی اسکول میں پڑھتے ہیں۔

پی آر او انویسٹی گیشن ونگ لاہور کا کہنا ہے کہ ریپ کے ملزم کو نشتر کالونی سے گرفتار کیا گیا۔ ملزم کو ڈی آئی جی انویسٹی گیشن شارق جمال خان کے نوٹس پر گرفتار کیا گیا۔

ڈی آئی جی انویسٹی گیشن نے مزید بتایا کہ متاثرہ بچی کی نشاندہی پر مشتبہ ملزم کو گرفتار کیا گیا۔ پولیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ جینڈر سیل اور دیگر ٹیمیں واقعہ کی تمام پہلوؤں سے تفتیش کر رہی ہیں۔ میڈیکل رپورٹ میں بھی متاثرہ بچی سے زیادتی کی تصدیق ہوئی ہے۔ متاثرہ بچی سے زیادتی اس کے اسکول میں کی گئی تھی۔ ملزم اور متاثرہ بچی ایک ہی اسکول میں پڑھتے ہیں۔

پولیس کے مطابق ملزم کے ڈی این اے کے بعد حقائق کی روشنی میں مقدمے کو آگے بڑھایا جائے گا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ بچوں سے زیادتی کے مرتکب افراد کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ شہریوں کے جان و مال کی حفاظت پولیس کی اولین ترجیح ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز 2 جولائی بروز جمعہ کو متاثرہ بچی کے والد شہزاد مسیح کی مدعیت میں تھانہ نشتر کالونی میں نامعلوم ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ ایف آئی آر میں مؤقف اپنایا گیا  تھا کہ اسکول کی ٹیچرز معاملے کو دبانے کی کوشش کررہی ہیں اور مجرم کو بھی بچایا جارہا ہے۔

ایف آئی آر میں بچی کے والد کا یہ بھی کہنا تھا کہ بچی 22 جون 2021 کو جب اسکول سے واپس آئی تو خاصی گھبرائی ہوئی تھی اور آتے ہی سو گئی تھی۔ جب لڑکی سو کر اٹھی تو اس نے اپنے والدین کو بتایا کہ اسکول میں ایک شخص نے اسے ریپ کا نشانہ بنایا۔ اساتذہ نے اسے دھمکی دی کہ اگر کسی کو بتایا تو اسکول سے نکال دیں گے۔

لڑکی کے والدین کا کہنا تھا کہ جب وہ اسکول گئے تو 2 خواتین ٹیچرز نے کہا کہ لڑکی کے ساتھ کچھ نہیں ہوا۔ ان خواتین ٹیچرز نے میری بیٹی کو بھی دھمکایا کہ کسی لڑکے کا نام نہ لینا۔