لندن: جی سیون اجلاس میں شریک انڈین وفد کورونا کا شکار، شرکا خوفزدہ

لندن میں جی سیون ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں بدھ کو اس وقت خوف و ہراس پھیل گیا جب انڈیا کے وزیر خارجہ جے شنکر اور ان کی ٹیم کی جانب سے بتایا گیا کہ ’ان کے وفد میں شامل دو افراد کے کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد سب ارکان سیلف آئسولیشن میں ہیں۔‘
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق برطانیہ اس تین روزہ اجلاس کی میزبانی کر رہا ہے جو دو سال میں ہونے والا جی سیون کا پہلا اجلاس ہے۔
انڈیا جس کو اس وقت کورونا وائرس کی وبا کے باعث انتہائی مشکل صورت حال کا سامنا ہے، وہ اس اجلاس میں مہمان کے طور پر شرکت کر رہا ہے۔
مزید پڑھیں
انڈین وزیر خارجہ جے شنکر نے ٹوئٹر پر بتایا کہ ’انہوں نے وفد کے ممکنہ کورونا کیسز سامنے آنے کے حوالے سے کل شام کو بتا دیا تھا۔‘
انہوں نے مزید لکھا کہ ’احتیاطی تدبیر اور دوسروں کو محفوظ رکھنے کے طور پر میں نے اپنی مصروفیات بذریعہ ورچوئل پوری کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور آج جی سیون کے اجلاس میں یہی طریقہ کار اختیار کیا جائے گا۔‘
یہ اجلاس جی سیون کے مرکزی اجلاس سے قبل ہو رہا ہے جبکہ مرکزی اجلاس جون میں ہو گا جس میں امریکی صدر جو بائیڈن اور دوسرے عالمی لیڈرز شرکت کریں گے۔
برطانوی سرکاری اہلکار نے کورونا کے دو کیسز مثبت آنے کی تصدیق کی ہے اور بتایا کہ ’انڈیا کا تمام وفد سیلف آئسولیشن میں ہے۔ برطانوی قواعد کے مطابق 10 روز کی سیلف آئسولیشن ضروری ہوتی ہے۔‘
یہ سوال پوچھے جانے پر کہ کیا مثبت کیسز کی روشنی میں یہ انعقاد غلطی ہے؟ پر برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کا کہنا تھا کہ ’میرے خیال میں یہ بہت اہم ہے کہ حکومت کے طور پر آپ جتنا کام کر سکتے ہیں، وہ کریں۔‘
جانسن کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’وہ بدھ کے بعد بذریعہ زوم جے شنکر سے بات کریں گے۔‘

برطانیہ جی سیون کے حالیہ اجلاس کی میزبانی کر رہا ہے (فوٹو: روئٹرز)
قبل ازیں برطانوی وزیر خارجہ ڈومینک راب جی سیون ارکان کے پہنچنے پر ان سے گرم جوشی سے ملتے دیکھے گئے۔
برطانیہ کے ایک سینیئر سفارت کار کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ’ہمیں افسوس ہے کہ جے شنکر آج کے اجلاس میں شرکت نہیں کر سکیں گے، یہی وجہ ہے کہ ہم نے کورونا کے حوالے سے سخت پروٹوکول بنایا ہے اور روزانہ کی بنیاد پر ٹیسٹ کر رہے ہیں۔‘
انڈیا جی سیون کا رکن نہیں ہے تاہم برطانیہ کی جانب سے آسٹریلیا، جنوبی افریقہ اور جنوبی کوریا کے ساتھ انڈٰیا کو بھی دعوت دی گئی ہے۔
منگل کے روز سامنے آنے والی اجلاس کی تصاویر کورونا کے دور کی سفارت کاری کی بھرپور عکاسی کرتی ہیں، وفد ارکان کو پلاسٹک سکرینز کی مدد سے ایک دوسرے سے دور رکھا گیا اور وزرا کے ’فیملی فوٹو‘ میں بھی ارکان کے درمیان دو میٹر کا فاصلہ رکھا گیا۔