لڑائی ختم: اپوزیشن اور حکومت کا ارکان کو فری واؤچرز دینے پر ’مثالی اتفاق‘

قومی اسمبلی نے منگل کو وفاقی بجٹ (فنانس بل 2021) کثرت رائے سے منظور کر لیا۔ چند دن قبل تک یہی بجٹ اجلاس لڑائی، گالم گلوچ اور ہاتھا پائی کی بدترین مثال بن گیا تھا تاہم منگل کو پریس گیلری میں بیٹھے صحافیوں اور اجلاس میں آئے مہمانوں نے ایک ایسا منظر دیکھا کہ انہیں اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آرہا تھا۔
بجٹ کی منظوری کے دوران جب دھڑا دھڑ اپوزیشن کی جانب پیش کی جانے والی بجٹ ترامیم کو وزیرخزانہ رد کر رہے تھے اسی اثنا میں ایک حکومتی رکن رانا قاسم نون نے ایک ترمیم پیش کی جس پر وزیر خزانہ تو کچھ نہ بولے مگر اپوزیشن ارکان ایک دم حمایت میں آگئے۔
اپوزیشن کی اتنی اندھا دھند حمایت دیکھ کر سپیکر قومی اسمبلی تھوڑی کنفیوژن کا شکار ہو گئے اور اس ترمیم کو مؤخر کر کے وزیر خزانہ شوکت ترین کو مشورہ دیا کہ وہ وزیراعظم عمران خان سے مشورہ کرلیں۔
مزید پڑھیں
کچھ دیر بعد وزیراعظم سے مشورہ کرکے ساتھ بیٹھے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کھڑے ہوئے اور کہا کہ ’رانا قاسم نون نے ترمیم پیش کی ہے جس کے مطابق اراکین اسمبلی کو ملنے والے (25 سالانہ) فری ایئر ٹکٹس کو ٹریول واؤچرز میں بدل دیا جائے تاکہ اسے فیملی کے دیگر ارکان بھی استعمال کر سکیں۔‘
شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ’چونکہ ٹکٹس کو ٹریول واؤچرز میں تبدیل کرنے سے قومی خزانے پر کوئی بوجھ نہیں پڑے گا اس لیے حکومت اس کو منظور کرتی ہے۔‘
اس کے بعد ووٹنگ کرائی گئی اور حکومت اور اپوزیشن دونوں جانب کے اراکین نے اس کی حمایت کی جبکہ اس کی مخالفت میں اپوزیشن کے کیمپ سے چند افراد نے نحیف سی آواز میں ’نو‘ کہا۔ 
ترمیم کا منظور ہونا تھا کہ حکومت اور اپوزیشن ممبران نے ڈیسک بجا کر داد دی اور اس کے بعد رانا قاسم نون کے اردگرد مبارک بادیں دینے والے ارکان کا جمگٹھا لگ گیا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ قومی اسمبلی کے حقیقی ہیرو وہ ہیں۔

قومی اسمبلی نے فنانس بل 2021 کثرت رائے سے منظور کیا (فوٹو: اے ایف پی)
کم سے کم لڑنے مارنے پر آمادہ نظر آنے والی اپوزیشن اور حکومت کو اتنا قریب لانے پر ان کی تعریف تو بنتی ہے۔ ترمیم منظور ہوئی تو پریس گیلری میں بیٹھے ایک صحافی کا تبصرہ تھا کہ ’اپنے مفاد کے لیے سب اکٹھے ہیں کوئی اختلافات نہیں۔‘
اس سے قبل جب وزیر خزانہ نے اسمبلی میں بجٹ پیش کیا تھا تو ایک موقع پر اپوزیشن ارکان نے اتنے زور سے تحریک کے مقابل نو کہا کہ حکومتی ارکان بھی گھبرا گئے کہ شاید ایوان میں اس وقت موجود ارکان میں اپوزیشن کو عددی برتری نہ حاصل ہو جائے۔ اس موقع پر ڈپٹی سپیکر قاسم سوری اجلاس کی صدارت کر رہے تھے انہوں نے فوراً ایوان میں گھنٹیاں بجائیں تاکہ حکومتی ارکان اور وزرا چیمبرز سے ایوان پہنچ سکیں اور بجٹ منظوری میں کامیابی حاصل ہو۔
ایوان میں وزیراعظم عمران خان، وزیر اطلاعات فواد چوہدری اور وزیر مملکت برائے اطلاعات فرخ حبیب موجود نہیں تھے۔ وفاقی وزیر مراد سعید نے ایوان کے اندر تین چار چکر لگا کر ارکان پورے کیے اور وزیراعظم اور وزرا بھی ایوان میں پہنچے۔ جب گنتی کروائی گئی تو حکومت کے 172 ارکان ایوان میں موجود تھے جبکہ اپوزیشن کے 138 ارکان تھے۔
لیڈر آف دی اپوزیشن شہباز شریف سمیت کئی اپوزیشن ارکان اس اہم اجلاس سے غائب تھے۔ بعد میں اس معاملے پر بلاول بھٹو نے کہا کہ ’وہ اپوزیشن کی عدم حاضری کا معاملہ شہباز شریف سے اٹھائیں گے کہ رکن اسمبلی کی مراعات کیا ہیں؟‘
قومی اسمبلی میں ارکان اسمبلی کے لیے ترمیم پیش کرنے والے رانا قاسم نون نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ان کی ترمیم کو حکومت اور اپوزیشن کی یکساں حمایت حاصل تھی کیونکہ پی آئی اے کے سسٹم اپ گریڈ ہونے کے باعث ایئر ٹکٹس پر صرف ارکان اسمبلی ہی سفر کر سکتے تھے اور ان کے اہل خانہ نہیں کرسکتے اس لیے انہوں نے ترمیم پیش کی کہ ٹکٹس کو واؤچرز میں تبدیل کر دیا جائے تاکہ ارکان کے اہل خانہ بھی اس پر سفر کرسکیں۔‘

بجٹ سیشن کے دوران حکومت کے 172 جبکہ اپوزیشن کے 138 ارکان موجود تھے (فوٹو: نیشنل اسمبلی ٹوئٹر)
رانا قاسم نون نے بتایا کہ ’’ٹکٹس واؤچرز میں تبدیل ہونے سے اب ان کے اہل خانہ بھی ان پر سفر کر سکتے ہیں اور ڈومیسٹک کے علاوہ انٹرنیشنل سفر بھی کیا جا سکے گا۔‘
یاد رہے کہ قومی اسمبلی کی ویب سائٹ پر موجود اراکین کی مراعات کے ترمیمی ایکٹ برائے 2018 کے مطابق ایک رکن اسمبلی کو ہر سال 25 ایئر ٹکٹس اور تین لاکھ کے واؤچرز دیے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ قومی اسمبلی کے اجلاس یا قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں شرکت پر 4800 روپے یومیہ کا الاؤنس بھی دیا جاتا ہے جو اجلاس سے تین دن قبل سے شروع ہوتا ہے جبکہ ہر قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پانچ دن کا یومیہ الاؤنس دیا جاتا ہے۔
قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے جاری جولائی 2018 کے ایک نوٹی فیکیشن کے مطابق سٹینڈنگ کمیٹی کی صدارت کرنے والے ہر رکن اسمبلی کو ماہانہ دو لاکھ تیرہ ہزار روپے تنخواہ اور مراعات کی شکل میں نقد دیے جاتے ہیں جبکہ کمیٹی کی صدارت نہ رکھنے والوں کو 188 ہزار روپے ماہانہ کیش دیے جاتے ہیں۔
اس کے علاوہ سٹینڈنگ کمیٹی کے ہر اجلاس کے لیے پانچ دن کا ڈیلی الاؤنس جبکہ قومی اسمبلی کے ہر سیشن کے لیے سیشن کے دورانیہ کے علاوہ چھ دن کا اضافی ڈیلی الاؤنس دیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ کمیٹی یا اسمبلی اجلاس کے لیے بزنس کلاس کا ٹکٹ بھی دیا جاتا ہے۔