’لڑائی کا خدشہ‘، انڈیا نے قندھار سے اپنا سفارتی عملہ نکال لیا

انڈیا نے کندھار میں اپنا قونصل خانہ عارضی طور پر بند کرنے فیصلہ کیا ہے  جبکہ سفارتی عملے کو واپس بلایا ہے۔
انڈین اخبار دی ہندو نے حکومتی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ انڈین ایئر فورس کے خصوصی طیارے کے ذریعے قونصل خانے کے تقریباً 50 ارکان اور انڈو تبتن بارڈر پولیس کے اہلکاروں کو نئی دہلی پہنچا دیا گیا ہے۔
انڈین حکام کے مطابق یہ اقدام احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے لیا گیا۔
مزید پڑھیں
ایک عہدیدار نے بتایا کہ ’ہمارا مقصد یہ یقینی بنانا تھا کہ انڈین عملہ محفوظ ہو، ہم نے شہر میں لڑائی کے خطرے کو محسوس کیا جو ان کو مشکل صورتحال سے دو چار کر سکتا تھا۔‘
کابل میں انڈین سفارت خانہ اور صوبہ بلخ کے شہر مزار شریف میں انڈین قونصل خانہ کام کر رہے ہیں۔
حکام کے مطابق ’اگر افغانستان میں صورتحال بہتر ہوتی ہے تو سنیچر کو دہلی پہنچنے والا سفارتی عملہ واپس بھیج دیا جائے گا اور اگر ضرورت ہوئی تو کچھ کو متبادل کے طور پر قونصل خانے کا کام جاری رکھنے کے لیے کابل بھیجا جا سکتا ہے۔‘
اپریل 2020 میں انڈین حکومت نے جلال آباد اور ہرات کے دو قونصل خانوں میں آپریشنز معطل کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور اپنے تمام سفارتی عملے کو نکالا تھا۔  
انڈین محکمہ خارجہ نے کہا تھا کہ کورونا وبا کی وجہ سے اس نے سفارتی عملے کو واپس بلانے کا فیصلہ کیا تھا تاہم یہ خیال کیا جا رہا تھا کہ عملے کو سکیورٹی وجوہات کی وجہ سے واپس بلایا گیا کیونکہ ان کو ابھی تک واپس نہیں بھیجا گیا۔


لڑائی کی وجہ سے لوگ اپنے گھر بار بھی چھوڑ رہے ہیں۔ (فوٹو: اے ایف پی)

حکام کا کہنا ہے کہ ایئرپورٹ تک محدود راستوں کی وجہ سے، خاص طور پر قندھار سے متعلق پریشان ہیں۔
قندھار کے قریب طالبان نے اہم اضلاع کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ گذشتہ ہفتے پنجوائی، جو قندھار شہر سے ایک گھنٹے کی دوری پر ہے، طالبان نے قبضہ کر لیا تھا۔
انڈیا کے لیے افغان سفیر فرید ماموندزئی نے دی ہندو کو بتایا تھا کہ قندھار میں تشدد میں اضافہ ہوا ہے اور ہم ممکنہ طور پر انڈین قونصل خانے سمیت متعدد قونصل خانوں کی خدمات عارضی طور پر معطل دیکھ سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ طالبان اضلاع پر قبضے کے دعوے بڑھا چڑھا کر رہے ہیں جس کا مقصد افغان عوام کو خوفزدہ کرنا ہے۔
انڈین وزارت خارجہ نے اس پیشرفت پر تبصرے سے انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ ہم افغانستان میں سکیورٹی کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور انڈین شہریوں کی سکیورٹی اور حفاظت سے متعلق اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں۔