ماؤنٹ ایورسٹ سرکرنے کے دوران2غیر ملکی کوہ پیماہلاک

بشکریہ اے ایف پی

دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ کو سر کرنے کے دوران 2 غیر ملکی کوہ پیما ہلاک ہوگئے۔

کوہ پیماؤں کے کلب سے جاری اطلاعات کے مطابق یہ اس سال ماؤنٹ ایورسٹ کو سر کرنے کے دوران ہلاکت کا پہلا واقعہ ہے۔ ہلاک کوہ پیماؤں کا تعلق امریکا اور سوئٹزر لینڈ سے تھا۔ نیپال کی حکومت کی جانب سے بھی مہم کے دوران کوہ پیماؤں کی ہلاکت کی تصدیق کردی گئی ہے۔

ایک اندازے کے مطابق دنیا کی اس بلند ترین چوٹی کو سر کرنے کے دوران ایک سال میں تقریبا 5 کوہ پیما اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو میں سیون سبمٹ ٹریکر کا کہنا تھا کہ واقعہ بدھ کے روز پیش آیا۔ تنظیم کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ سوئس کوہ پیما کی شناخت 40 سالہ عبداللہ وڑائچ کے نام سے کی گئی ہے، جو چوٹی کے قریب ترین پہنچ کر حادثے کا شکار ہوئے۔ عبداللہ وڑائچ کو چوٹی کی بلندی پر آکسیجن کی کمی کا سامنا تھا۔ تنظیم کے مطابق ان کے آکسیجن لیول کو برقرار رکھنے کیلئے آکسجین سلنڈر اور کھانے کی اشیا بھیجی گئی تھیں، تاہم وہ جانبر نہ ہوسکے۔

حادثے میں ہلاک دوسرے امریکی کوہ پیما کی شناخت پووی لیو کے نام سے کی گی ہے، جن کی عمر 55 سال تھی ۔ پووی شدید برف باری کی وجہ سے اسنو بلائنڈنس اور آکسجین میں کمی کا شکار ہوئے تھے اور چوٹی کے قریب ہی ہلاک ہوئے۔ وہ کیمپ 4 تک پہنچنے میں ناکام رہے تھے۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ سال 2019 میں 11 کوہ پیما اس چوٹی کو سر کرنے کے دوران ہلاک ہوئے۔ نیپال میں واقع ماؤنٹ ایورسٹ 8848 میٹر بلند ہے اور آٹھ ہزار میٹر سے بلند چوٹیوں میں نہ صرف بلند ترین ہے بلکہ اس کا ڈیتھ زون بھی سب سے بڑا ہے۔

اگرچہ ایورسٹ پر شرح اموات آٹھ ہزار میٹر سے بلند باقی چوٹیوں کے مقابلے میں کافی کم (صرف ایک فیصد) ہے لیکن اب تک اسے سر کرنے کی کوشش میں تقریباً 300 کوہ پیما جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

دنیا کی اس بلند ترین چوٹی پر کوئی ’بوٹل نیک‘ تو موجود نہیں لیکن کوہ پیما کئی دوسری دشواریوں کا سامنا کرتے ہیں جس میں سب سے قابلِ ذکر اس کا ڈیتھ زون ہے جو 848 میٹر پر مشتمل ہے یعنی کوہ پیما تقریباً 17-18 گھنٹے اس خطرناک علاقے میں گزراتا ہے جہاں انسانی جسم میں آکسیجن کی سچوریشن تیزی سے کم ہونا شروع ہو جاتی ہے اور جسم میں منفی اثرات رونما ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔

متعلقہ خبریں