ماحولیاتی تبدیلوں سے متعدی بیماریوں میں اضافہ ہوگا، عالمی ادارے کا انتباہ

زیادہ سے زیادہ سیلابوں سے بھی بیماریوں میں اضافہ ہوا ہے۔ فوٹو: اے ایف پی

عالمی امدادی ادارہ گلوبل فنڈ نے کہا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث متعدی امراض میں اضافہ ہوگا جس سے اموات بھی واقع ہوں گی۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق گلوبل فنڈ کے ڈائریکٹر پیٹر سینڈز نے کہا کہ رواں سال کے دوران ماحولیاتی تبدیلیوں کے صحت پر بڑھتے ہوئے اثرات سامنے آئے ہیں جبکہ سیلاب اور طوفانوں میں اضافے کے باعث ملیریا کے کیسز میں بھی اضافہ ہوا۔
’پاکستان میں سیلاب کی وجہ سے تو (بیماریاں) ایک مختلف سطح پر چلی گئی ہیں۔‘
مزید پڑھیں
انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے متعدی بیماریوں پر اثرات ہی اموات کا سبب بنیں گے۔ 
اقوام متحدہ کارسپانڈنٹس ایسوسی ایشن کے ہمراہ بریفنگ کے دوران گلوبل فنڈ کے ڈائریکٹر نے کہا کہ افریقہ کے وہ علاقے جو ملیریا سے متاثر نہیں تھے، وہاں بھی درجہ حرارت میں اضافے اور مچھروں کی افزائش سے بیماری کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔
ان علاقوں کے رہائشیوں میں  بیماریوں کے خلاف قوت مدافعت نہ ہونے کی وجہ سے بھی اموات میں اضافے کا خطرہ ہوتا ہے۔
گلوبل فنڈ کے ڈائریکٹر پیٹر سینڈز نے صورتحال کو خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں پھیلے ہوئے بے گھر افراد میں ٹی بی کے علاوہ دیگر بیماریوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسے میں جب انتہائی دباؤ کا شکار افراد خوراک اور چھت کے بغیر ایک ساتھ رہ رہیں ہوں تو ٹی بی جیسی بیماریوں کو پھلنے پھولنے کا موقع ملتا ہے۔
’جتنا زیادہ موحولیاتی تبدیلیوں کے باعث لوگ نقل مکانی کریں گے، اتنا ہی زیادہ ایسے حالات پیدا ہوں گے جو بیماریوں کی افزائش کا سبب بنیں گے۔‘
انہوں نے کہا کہ خوراک تک عدم رسائی سے بھی لوگوں کو بیماریاں لاحق ہونے کا خطرہ بڑھتا ہے۔
پیٹر سینڈز کا کہنا ہے کہ دنیا کی غریب ترین کمیونٹیوں میں کورونا کے مقابلے میں ایڈز، ٹی بی اور ملیریا سے کئی زیادہ اموات واقع ہوتی ہیں۔