مارگلہ کی پہاڑیوں پر’آگ واضح طور پر جان بوجھ کر لگائی گئی‘

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں جمعے کو مارگلہ کی پہاڑیوں پر لگنے والی آگ کی وجہ سے تمام ٹریلز کو اگلے حکم نامے تک بند کر دیا گیا ہے۔
اسلام آباد وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ نے کہا ہے کہ مارگلہ کی پہاڑیوں پر آگ لگنے کے حوالے سے تحقیقات کا عمل جاری ہے، عوام اس سلسلے میں وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ سے تعاون کرے۔
’مارگلہ ہلز نیشنل پارک عوام کے لیے تحقیقات مکمل ہونے اور پارک کو پہنچنے والے نقصان کا اندازہ کرنے تک بند ہوگا۔‘
مزید پڑھیں
وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ کے ایک بیان کے مطابق جمعے کو مارگلہ ہلز نیشنل پارک کی تین جگہوں پر آگ لگی۔
جمعے کو ٹریل تھری بری امام نور پور، ڈی 12 اور ٹریل سکس پر آگ لگی جبکہ اس سے ایک دن قبل ٹریل فائیو بھی آگ سے متاثر ہوئی۔
وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ کا کہنا ہے کہ اس کے عملے نے خود کو خطرے میں ڈال کر آگ بجھانے کی کوشش کی جس پر بڑی حد قابو پا لیا گیا ہے۔
وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ  کے مطابق کہ مستقبل میں اس قسم کے واقعات سے بچنے کے لیے اس کو تقریباً دو سو مربع کلومیٹر پر پھیلے نیشنل پارک کے لیے بہترین آلات، مزید وسائل اور پٹرولنگ سٹاف کی ضرورت ہے۔
اسلام آباد وائڈ لائف مینجمنٹ بورڈ کے مطابق ’عام طور پر مارگلہ ہلز نیشنل پارک میں آگ،  قدرتی جنگلی آگ نہیں ہوتی۔ اس میں کئی عوامل شامل ہوتے ہیں۔ اس میں وہ ناراض مقامی افراد بھی شامل ہوتے ہیں جن کو روزگار کے لیے سی ڈی اے اور وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ نے سالانہ فائر سیزن میں نہ لیا ہو اور وہ سیاح جو سگریٹ استعمال کرتے ہیں یا بار بی کیو کے لیے آگ استعمال کرتے ہیں۔‘
تاہم وائلڈ لائف بورڈ کا کہنا ہے کہ جمعے کو لگنے والی آگ واضح طور پر جان بوجھ کر لگائی گئی اور عملے نے ٹریل سکس پر ایک شخص کو آگ لگاتے ہوئے دیکھا۔
’ان لوگوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی جو اس میں ملوث پائے گئے۔‘

وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ نے کہا ہے کہ اس کو مزید پٹرولنگ سٹاف کی ضرورت ہے۔ (فوٹو: آئی ڈبلیو ایم بی)
مارگلہ ہلز نیشنل پارک میں لگنے والی آگ سے جنگلی حیات کو بھی نقصان پہنچا ہے۔  آگ سے پرندوں کے گھونسلے بھی جھلس گئے ہیں۔
اسلام آباد وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ نے کہا ہے کہ اب اس کا عملہ اس خشک موسم میں ہفتے کے سات دن 24 گھنٹے پہاڑوں میں گشت کرے گا۔