ماریہ میمن کا کالم: گڈ بائے پی ڈی ایم؟

پی ڈی ایم کا موجودہ اجلاس بغیر کسی ہنگامہ خیز اعلان اور بغیر کسی متاثر کن اقدامات کے اختتام پذیر ہوا۔ نہ صرف پی ڈی ایم نے اس اجلاس میں کوئی خاطر خواہ سیاسی ایجنڈا دینے سے پرہیز کیا بلکہ آگے کے لیے بھی یہی اشارہ دیا کہ سیاسی سرگرمیاں بین بین ہی ہوں گی۔
مزید پڑھیں
 پیپلز پارٹی کو نہ اجلاس میں بلایا گیا اور نہ ہی کوئی باقاعدہ تبصرہ کیا گیا۔ پیپلز پارٹی سے راہیں جدا ہونے کی وجہ ان کا جارحانہ سیاست کی طرف مائل نہ ہونا تھا، لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ اب باقی ماندہ پی ڈی ایم اور پی پی پی کی سوچ میں شاید فرق ہو مگر اپروچ میں زیادہ فرق نظر نہیں آتا۔
کسی تحریک اور احتجاج کا پروگرام نہیں بنا اور صرف جولائی اور اگست میں جلسوں کا پروگرام دیا گیا۔ ان ہومیو پیتھک اعلانات کے بعد یہ پوچھا جا سکتا ہے کہ گڈ بائے پی ڈی ایم؟ 
پی ڈی ایم کا اعلان اور آغاز بلند و بانگ دعوؤں اور اعلانات سے کیا گیا۔ لانگ مارچ، استعفے اور احتجاج کے الٹی میٹم اس میں شامل تھے۔
کچھ عرصے تک پی ڈی ایم کا ملا جلا اثر بھی دیکھنے میں آیا۔ ملک گیر جلسوں سے ایک طرف سیاسی رونق بھی لگی اور دوسری طرف لاہور جلسے میں توقعات سے کم شرکت سے مایوسی بھی پھیلی۔
ایک طرف نواز شریف کی تقریروں سے تلاطم بھی پیدا ہوا اور دوسری طرف کچھ جماعتوں نے اس بیانیے سے فاصلہ بھی اختیار کیا۔ ضمنی انتخابات میں کامیابی سے حوصلے بلند ہوئے اور کراچی میں ضمنی انتخاب میں براہ راست صف آرائی بھی ہوئی۔ 

کچھ عرصے تک پی ڈی ایم کا ملا جلا اثر بھی دیکھنے میں آیا، ملک گیر جلسوں سے ایک طرف سیاسی رونق لگی (فوٹو: اے ایف پی)
 یوسف رضا گیلانی کے سینیٹ انتخاب نے پی ڈی ایم میں ایک نئی جان ڈال دی اور کچھ ہی عرصے بعد سینیٹ میں پی ڈی ایم سے بچی کھچی جان بھی نکل گئی۔
اب آج کے دن پی ڈی ایم ڈرائنگ روم تک محدود ایک سیاسی گروپ نظر آتا ہے جس میں مولانا فضل الرحمان بطور پریشر گروپ اور ن لیگ بطور سیاسی جماعت ہی کچھ اثر رکھتے ہیں۔  
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پی ڈی ایم کیا اپنے اہداف حاصل کر سکی؟ اور کیا اب پی ڈی ایم ناکام یا ختم ہو چکی ہے؟ پھر سوال یہ ہے کہ کیا حکومت کے سیاسی چیلنج اب ختم ہو چکے ہیں؟  
سب سے پہلے جہاں تک اہداف کا تعلق ہے اس اتحاد میں ہر جماعت کے اپنے اپنے اہداف تھے۔ سیاسی اعلانات تو پریشر بڑھانے اور اپنے آپ کو سیاسی طور پر متحرک رکھنے کے لیے کیے جاتے ہیں مگر جماعتوں کو اپنے حقیقت پسندانہ اہداف کا اندازہ ہوتا ہے۔
اس اعتبار سے پیپلز پارٹی نے تو اپنا سیاسی اثر بڑھایا ہی ہے۔ خبروں کے مطابق پی پی پی کو سیاسی اور قانونی دونوں طرف سے مشکلات میں کمی آئی ہے۔ ان کے عزائم میں اب پنجاب اور وفاق میں اپنا دائرہ کار بڑھانا بھی شامل ہے۔ 
ن لیگ میں بھی یہی سوچ ہے کہ پی ڈی ایم کے بیانیے سے ان کو بالواسطہ فائدہ ہوا ہے۔ اس سوچ کی ترجمانی مریم نواز نے بھی کی ہے کہ مفاہمت کی بہ نسبت مزاحمت میں زیادہ سیاسی سپیس بنتی ہے۔
ان کا اشارہ اس امر کی جانب بھی واضح ہے کہ ان کے چچا کے لیے جو مفاہمت کی جگہ بنتی نظر آ رہی ہے اس کے پیچھے ان کا مزاحمتی بیانیہ ہے۔
بظاہر اس بیانیے کو بریک لگی ہے مگر شہباز فارمولے کے فیل ہونے کی صورت میں ن لیگ دوبارہ جارحانہ فیز میں جانے کو تیار رہے گی۔ مولانا فضل الرحمان جو اس سیاسی بساط کو الٹنے کے ارادے سے آئے تھے ان کے لیے فی الحال مایوسی ہی نظر آتی ہے۔

حکومت  گڈ بائے پی ڈی ایم کے ساتھ مطمئن تو ہے مگر اس اطمینان میں مسرت اور جوش شامل نہیں (فوٹو اے ایف پی)
پرانے سیاسی کھلاڑی کے طور پر وہ بھی تیل اور تیل کی دھار دیکھ کر مناسب وقت کا انتظار کریں گے۔  
حکومت  گڈ بائے پی ڈی ایم کے ساتھ مطمئن تو ہے مگر اس اطمینان میں مسرت اور جوش شامل نہیں۔
اس کی وجہ حکومتی پارٹی کی اپنی شکست و ریخت ہے۔ یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ زیادہ اختلافات پی ڈی ایم میں ہیں یا پی ٹی آئی میں۔
 پی ڈی ایم تو پھر متنوع سیاسی جماعتوں کا ایک وقتی اتحاد ہے یا تھا جس میں ہر پارٹی کا مختلف ایجنڈا ہے مگر پی ٹی آئی تو ایک منظم پارٹی ہے جس کے اپنے وزرا اور ارکان گروپ بنانے پر اپنے ہی ساتھی وزرا سے مذاکرات کر رہے ہیں۔
پی ٹی آئی کے علاوہ اتحاد میں شامل چھوٹی پارٹیاں پی ٹی آئی سے زیادہ دیگر عوامل کی وجہ سے حکومت کے ساتھ ہیں۔

پارلیمنٹ میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف اور پی پی پی کے درمیان قربت کے مواقع اور امکانات بھی زیادہ ہیں (فوٹو اے ایف پی)
مزید براں حکومت کے سیایسی استحکام کا امکان بھی محدود ہے۔ گورننس کو ایک طرف رکھ کر اگر سیاسی پوزیشن کو دیکھا جائے تو وزیر اعلی عثمان بزدار کی تیسرے سال بھی وہی پوزیشن ہے جو پہلے دن تھی اور اس میں بہتری کا بھی کوئی امکان نظر نہیں آتا۔
ایسا لگتا ہے کہ اپوزیشن جتنی بھی کمزور ہو اور بحرانوں میں رہے حکومتی پارٹی اس کے برابر میں اپنے لیے سیاسی بحران پیدا کر لیتی ہے۔   
پی ڈی ایم یا ن لیگ اور اس کی کچھ حمایت یافتہ چھوٹی جماعتوں نے اب پارلیمنٹ میں متحرک ہونے کا اشارہ دیا ہے۔  کیا اس اشارے کے پیچھے بھی کوئی اشارہ ہے، اس کا فیصلہ تو آنے والے کچھ ماہ ہی کریں گے ۔ 
پارلیمنٹ میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف اور پی پی پی کے درمیان قربت کے مواقع اور امکانات بھی زیادہ ہیں۔
فی الحال یہی کہا جا سکتا ہے کہ  پی ڈی ایم جو اپنے نام اور کام میں پاکستان جمہوری تحریک کی صورت میں سامنے آئی تھی اس میں سے تحریک تو نکل ہی چکی ہے۔ کیا اس تحریک میں واپس جان ڈالی یا ڈلوائی جا سکتی ہے؟
اگر تاریخ کو سامنے رکھا جائے تو مملکتِ پاکستان میں کچھ بعید نہیں مگر آج کل اگر پی ڈی ایم کے اکابرین سے کہا جائے۔ گڈ بائے پی ڈی ایم ، تو وہ اس کی تردید نہیں کرتے۔