ماڈل گرل کاقتل،وقوعہ سےقبل پارٹی میں دوستوں سےجھگڑےکاانکشاف

لاہور میں ماڈل گرل قتل کیس کی تفتیش میں پیش رفت ہوئی ہے۔

لاہور پولیس نے بتایا ہے کہ ڈيفنس کےعلاقے میں قتل ہونے والی ماڈل نایاب واردات کی رات دوستوں کی پارٹی سے جھگڑ کر گھر واپس آئی تھی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ دوستوں کی پارٹی میں نایاب دوستوں سے تکرار کے بعد پارٹی چھوڑ کر نکل گئی تھی۔

اس کے بعد نایاب نے اپنے سوتیلے بھائی کو ٹیلی فون کیا اورمقتولہ کا بھائی اس سے ملنے آیا تھا۔

نایاب نے کچھ وقت اپنے بھائی کے ساتھ گزارا اور اس کے بعد اس کا بھائی گھر چھوڑ کرچلا گیا۔ پولیس نے مقتولہ کے دوستوں کو شامل تفتیش کرکے پوچھ گچھ شروع کردی ہے جبکہ وقوعہ کےروزکا کال ڈیٹا ریکارڈ بھی حاصل کرلیا ہے۔پولیس نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ نایاب کے قتل میں کوئی قریبی عزیز ملوث ہوسکتا ہے۔

واضح رہے کہ قتل کے اس کیس میں درج ایف آئی آر کے مطابق نامعلوم ملزمان نے تشدد کرکے گلا دبا کر خاتون کا قتل کیا اور موقع سے فرار ہوگئے۔ ایف آئی آر مقتولہ کے سوتیلے بھائی کی مدعیت میں درج کی گئی ہے۔ نامعلوم ملزمان کے خلاف درج ایف آئی آر میں قتل کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔

سوتیلے بھائی محمد علی کے مطابق بہن کا موبائل فون بند آرہا تھا۔ بہن کے گھر گیا تو بہن کی لاش زمین پر پڑی ہوئی تھی۔ وہ گھر میں اکیلی رہتی تھی، جب کہ اس کے باتھ روم کی جالی ٹوٹی ہوئی تھی۔ میں نے خود اس کی لاش پر کپڑا ڈالا اور پولیس کو اطلاع دی۔

ایف آئی آر کے متن میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ میری بہن کے گلے پر زخم کے نشان تھے۔

متعلقہ خبریں