ماں کے قتل کے ملزم باپ کی گرفتاری کے لیے بولنے سے قاصر بیٹی کی جدوجہد

’مجھے نہیں یاد کہ میرے باپ نے مجھے آخری دفعہ کب پیار کیا تھا۔ ہاں اتنا یاد ہے کہ جب وہ ہمیں بہت زیادہ مار لیتے تھے تو بعد میں ذرا نرم انداز سے بات کرکے دلاسہ دینے کی کوشش کرتے تھے۔ اپنے ساتھ ہونے والی یہ نا انصافیاں تو معاف کر سکتی ہوں لیکن والد کے ہاتھوں اپنی والدہ کا قتل کسی صورت معاف نہیں کر سکتی۔‘
یہ کہنا ہے پشاور کی رہائشی صائمہ علی کا جن کے والد رضا علی نے فائرنگ کرکے اپنی بیوی کو قتل  کر دیا تھا۔
مزید پڑھیں
پشاور کے تھانہ مچنی میں تین جولائی کو درج کرائی گئی ایف آئی آر کے مطابق ملزم رضا علی نے علیحدہ گھر میں مقیم اپنی اہلیہ بشریٰ رشید، بیٹی صائمہ علی اور بیٹے دانیال عباس پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں اہلیہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہو گئیں جبکہ بیٹا اور بیٹی زخمی ہیں۔ فائرنگ کے دوران گھر میں موجود مہمانوں نے چھپ کر اپنی جانیں بچائی تھیں۔
صائمہ علی کی گردن اور ہونٹوں پر زخم آئے جبکہ ان کے بھائی کے بازو اور پسلیوں پر گولیاں لگیں۔
ملزم رضا علی خود بھی پولیس کانسٹیبل ہیں جنہیں پولیس تاحال گرفتار کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ دو ہفتے گزر جانے کے باوجود پولیس کی جانب سے کارروائی نہ ہونے کے بعد ملزم کی بیٹی نے اپنی مقتول والدہ کو انصاف دلانے کے لیے جدوجہد شروع کر دی ہے۔
ہونٹوں پر ٹانکے لگنے کی وجہ سےسے صائمہ گزشتہ دو ہفتوں سے بولنے سے قاصر ہیں۔ ان کی آواز تو خاموش ہے لیکن انہوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے والد باپ کی گرفتاری اور اپنی مقتولہ والدہ کو انصاف دلانے کے لیے مہم شروع کی ہے۔
 صائمہ علی اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے اپنی اور بھائی کی زخمی حالت میں تصاویر ٹویٹ کرتے ہوئے پورا واقعہ لکھ کر حکام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے میں اپنا کردار ادا کریں۔
صائمہ کے دوست بھی انہیں انصاف دلانے کے لیے آواز اٹھا رہے ہیں۔ صائمہ چونکہ بولنے سے قاصر ہیں اس لیے انھوں نے اردو نیوز کو واٹس ایپ پر پیغامات کے ذریعے اپنے موقف سے آگاہ کیا۔
اردو نیوز کے ساتھ گفتگو میں صائمہ علی نے بتایا کہ ’ہم چار بہن بھائی ہیں۔ میں سب سے بڑی ہوں اب میرے بہن بھائی میری ذمہ داری ہیں۔ اس لیے ان کی حفاظت اور سلامتی کے لیے ضروری ہے کہ والد جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہوں۔‘
صائمہ نے بتایا کہ ’میرے والد اور والدہ نے پسند کی شادی کی تھی، بعد میں اختلافات کی وجہ سے والد اکثر و بیشتر میری والدہ مارتے پیٹتے تھے۔ جب پورا ایک سال میری اور بھائی کی فیس ادا نہ کی تو والدہ نے ملازمت شروع کر دی۔ اس کے بعد والد 12 برس کی بہن امتشال علی کو لے کر الگ ہوگئے۔ مالک مکان سے کہا کہ اب کرایہ ان سے لینا اور اگر نہ دیں تو گھر سے نکال دینا۔‘
فائرنگ کے واقعے کے بارے میں صائمہ علی نے بتایا کہ ’چھوٹی بہن امتشال نے فون کرکے بتایا کہ اس کی طبیعت خراب ہے اور والد گھر پر نہیں اور دیر سے آتے ہیں تو بھائی جا کر اس کو لے آیا۔‘
انھوں نے اپنی والدہ کا اپنی ایک دوست کو بھیجا گیا وائس میسج بھی بھیجا جس میں وہ بتا رہی ہیں کہ ’دانیال (بیٹا)  امتشال (چھوٹی بیٹی) کو لے آیا ہے۔ اس کی طبیعت خراب ہے۔ اب انور گھر آئے گا تو امتشال نہیں ہوگی تو وہ یہاں سیدھا آئے گا اور لڑائی کرے گا۔‘
صائمہ کے بقول ’والد صرف امتشال کو لینے نہیں آئے تھے بلکہ اس بار وہ ہم سب کو مارنے کے لیے آئے تھے۔ ہم بچپن سے یہ سنتے آئے ہیں کہ تم سب کو مار دوں گا۔ ان کے پاس گولیوں سے بھری اضافی میگزین تھیں جس سے ان کے عزائم واضح تھے۔‘

صائمہ علی نے شکوہ کیا ہے کہ نے شکوہ کیا ہے کہ ’پولیس اس سلسلے میں ہمارے ساتھ تعاون نہیں کر رہی‘ (فوٹو: کے پی پولیس ٹوئٹر)
صائمہ علی نے بتایا کہ ’والد نے امتشال کو ساتھ چلنے کا کہا تو بھائی نے انہیں روکا کہ امتشال بیمار ہے اسے نہ لے کر جائیں جس پر انہوں نے فائرنگ  کر دی۔ میں نے بھائی کو دیکھا تو دوڑ کو والد کو روکنے اور دروازے سے باہر دھکیلنے کی کوشش کی تو انھوں نے مجھ پر بھی فائر کر دیا۔ اس کے بعد انھوں نے اوپر کے کمرے میں جا کر والدہ کو گولیاں ماریں۔‘
عاصمہ نے یہ بھی بتایا کہ ’میری خالہ اور ان کے بچے ہمارے گھر آئے ہوئے تھے میرے والد انہیں بھی مارنے کے لیے دوڑے لیکن انھوں نے واش روم میں چھپ کر اپنی بچائی، ہمیں ہمارے پڑوسیوں نے ہسپتال پہنچایا۔‘
صائمہ کہتی ہیں کہ ’میں کسی صورت اپنی والدہ کے قاتل کو معاف نہیں کروں گی اور انصاف لے کر رہوں گی چاہے  کسی بھی حد تک جانا پڑے۔‘ انھوں نے شکوہ کیا کہ پولیس اس سلسلے میں تعاون نہیں کر رہی۔
اس واقعے کے تفتیشی انسپکٹر صفدر خان نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’ملزم حاضر سروس پولیس کانسٹیبل ہے اور آئس کے نشے کا عادی ہے۔ ایف آئی آر کے اندراج کے بعد سے اب تک متعدد چھاپے مار چکے ہیں تاہم ابھی تک گرفتاری عمل میں نہیں لائی جا سکی۔ پولیس اہل خانہ سے رابطے میں ہے۔ کوشش ہے کہ ملزم کو جلد از جلد گرفتار کیا جا سکے۔‘