مبینہ ویڈیوکامعاملہ:تحقیقات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست جمع

فائل فوٹو

سینیٹ انتخابات 2018 ء میں پیسے کی تقسیم سے متعلق گردش کرتی مبینہ ویڈیو کی تحقیقات کیلئے پاکستان مسلم لیگ نواز نے الیکشن کمیشن میں درخواست جمع کرادی۔

پاکستان مسلم لیگ کی جانب سے 15 فروری بروز پیر الیکشن کمیشن آف پاکستان میں درخواست جمع کرائی گئی۔ متعلقہ درخواست میں عمران خان، اسد قیصر اور پرویز خٹک کو فریق بناتے ہوئے استدعا کی گئی ہے کہ مبینہ ویڈیو کی تحقیقات مکمل ہونے تک ان اراکین کی اسمبلی رکنیت معطل کی جائے۔

درخواست میں چئیرمین پاکستان میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی ( پیمرا) ، ڈائریکٹر جنرل وفاقی تحقیقاتی ایجنسی ( ایف آئی اے ) کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔ درخواست ن لیگ کے رہنما مرتضیٰ عباسی کی جانب سے جمع کرائی گئی ہے۔

درخواست گزر کی جانب سے الیکشن کمیشن سے استدعا کی گئی ہے کہ جو لوگ ویڈیو میں نظر آرہے ہیں یا کسی بھی طرح اس میں ملوث ہیں، ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ آئین کے تحت الیکشن کمیشن انتخابات کو شفاف، آزادانہ بنانے کا ذمہ دار ہے، الیکشن کمیشن کو اختیار ہے کہ کسی بھی ایجنسی سے تحقیقات کراسکتا ہے۔

سینیٹ الیکشن 2018 میں ایم پی ایز کی خرید و فروخت کی ویڈیو رواں ماہ کے آغاز میں منظر عام پر آئی تھی۔

ویڈیو میں اراکان اسمبلی کو پیسے وصول اور ادا کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ ارکان کے سامنے رکھی ٹیبل پر سینیٹ الیکشن کیلئے خریدنے کیلئے نوٹوں کے ڈھیر لگے ہوئے تھے۔

ویڈیو سے متعلق پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ووٹ کے بدلے پیسے لینا انتہائی شرم کی بات ہے، سپریم کورٹ کو معاملے پر ازخود نوٹس لینا چاہیئے، فنڈنگ میکنزم پر قانون سازی ہونی چاہیئے، یہ لوگ پیسے خرچ کر کے ایوان میں آتے ہیں۔

معاون خصوصی شہباز گل کا کہنا تھا کہ وزیراعظم 25 سال سے اس معاملے کو اٹھاتے رہے۔ عمران خان نے الیکشن میں خرید و فروخت کیخلاف آواز اٹھائی ہے۔

مبینہ ویڈیو کے بعد خیبر پختونخوا کے وزیر قانون سلطان محمد خان کے مستعفیٰ ہونے کی خبریں سامنے آئیں۔

متعلقہ خبریں