متعدد افراد کو 2 سے3 بار بھی کرونا ہوا،فیصل سلطان

ایک لاکھ سے زائد ہیلتھ ورکرزکوویکسین لگائی گئی ہے

معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل کا کہنا ہے کہ لاکھوں تو نہیں مگر چند سو ایسے افراد بھی ہیں جنہوں دو سے تین بار کرونا وائرس ہوا ہے، یہ صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ دنیا میں دیگر افراد کیساتھ بھی ہوا ہے۔

سما کے مارننگ شو نیا دن میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے معاون صحت ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ یہ کوئی انہونی بات نہیں کہ ایک شخص دو سے تین مرتبہ کرونا وائرس کا شکار ہوا ہے۔ ایسا دنیا کے دیگر ممالک میں بھی ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ نارمل چیز نہیں ہے، تاہم ایسا ہوا ضرور ہے اور اس کی اکثر وجہ یہ ہوتی ہے کہ پہلی دفعہ میں آپ کو مکمل امیونٹی نہیں مل پاتی ہے۔ یا پھر اگر دوسری دفعہ ہوتا ہے تو وائرس پہلے کی نسبت زرا مختلف ہوتا ہے۔ یہ چیزیں سائنسی طور پر ممکن ہے۔

ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ ویکسین کی افادیت مکمل 100 فیصد نہیں ہوتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہیلتھ کیئر سیکٹر میں ویکسین لگوانا لازمی ہے۔ ہیلتھ سیکٹر کے مزید 3 لاکھ افراد کو ابھی کرونا ویکسین لگانا باقی ہیں۔ ہیلتھ کیئر سیکٹر میں اب تک 1 لاکھ سے زائد لوگوں کو ویکسین لگا چکے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ میری یہ ہیلتھ ورکرز سے تلقین ہے کہ وہ یہ ویکسین ضرور لگوائیں۔ صوبے اس معاملے میں مکمل بااختیار ہیں، وہ اپنے اپنے صوبوں میں اس بارے میں اصلاحات کیلئے آزاد ہیں کہ جیسے چاہیے قانون لاگو کریں۔ ہیلتھ سیکٹرمیں ویکسین نہ لگوانے کیخلاف ایکشن ہونا چاہیے۔

ویکسین سے متعلق معاون خصوصی نے بتایا کہ ابھی تک اس سے کسی قسم کے ری ایکشن یا مضر اثرات دیکھنے میں نہیں آئے ہیں۔ مستقبل کے لائحہ عمل سے متعلق انہوں نے بتایا کہ ہیلتھ کیئر کے علاوہ دیگر افراد کو ویکسین لگانے کا عمل مارچ سے شروع ہوگا جب ایسٹر زینیکا کی ویکسین ملک میں دستیاب ہونگی۔ زیادہ تر افراد کو حکومت کی طرف سے مفت میں یہ ویکسین دی جائے گی۔ ہمیں اہپنے ملک کے عوام کو مد نظر رکھنا چاہیئے، ہر کوئی ویکسین خریدنے کی سکت نہیں رکھتا ہے۔

ڈاکٹر فیصل نے یہ بھی بتایا کہ کوشش ہے کہ اس سال کے آخر تک 4 سے 5 کروڑ افراد کو ویکسین لگ جائے، جس کیلئے کام شروع کردیا گیا ہے۔ اس لیئے اس عمل کو تیز کرنا پڑے گا اور ان سینٹرز میں بھی اضافہ کرنا ہوگا۔ پاکستان کو مقررہ تعداد میں ویکسین با آسانی مل جائیں گی جہاں سے خریدنے کی ضرورت محسوس ہوئی ہم خرید بھی سکتے ہیں، ابھی ہمارے پاس آئندہ سے 5 سے 6 ماہ کا ذخیرہ موجود ہے۔

متعلقہ خبریں