متنازعہ ویڈیو: برطانوی سیکریٹری صحت نے استعفی دیدیا

فائل فوٹو

برطانیہ کے سیکریٹری صحت نے متنازعہ ویڈیو منظر عامر پر آنے کے بعد عہدے سے استعفی دے دیا۔ کرونا لاک ڈاؤن کے دوران میٹ ہینکاک اور ان کی معاون گینا کولاڈ اینجلو کی ایک دوسرے کو بوسہ لینے ویڈیو اور تصاویر وائرل ہونے پر میٹ پر استعفی دینے کیلئے دباؤ بڑھ گیا تھا۔

برطانوی اخبار کی جانب سے میٹ ہینکاک اور گینا کولاڈ اینجلو کی ویڈیو اور تصاور شائع کی گئیں، جو ممکنہ طورپر سی سی ٹی وی کیمرے سے حاصل کی گئی ہیں۔

ویڈیو سامنے آنے کے بعد اپوزیشن ارکان پارلیمنٹ نے میٹ ہینکاک سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ کرونا وبا کے دوران سماجی دوری کے قانون کی خلاف ورزی کرنے پر عہدے سے مستعفیٰ ہوجائیں۔ اپنے استعفی کے ساتھ میٹ کا کہنا تھا کہ انہیں اس عالمی وبا کے باعث ہزاروں لاکھوں لوگوں نے اپنے پیاروں کو کھویا اور مجھے افسوس ہے کہ میری اس بات سے ان تمام لوگوں کی دل آزاری ہوئی۔

دوسری جانب وزیراعظم ہاؤس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ بورس جانسن نے میٹ ہینکاک کی معذرت قبول کرلی ہے اور انہیں وزیر صحت پر مکمل بھروسہ ہے۔

Boris Johnson Called Matt Hancock 'Totally F---Ing Hopeless': Cummings

رپورٹ کے مطابق مذکورہ ویڈیو محکمہ صحت کی عمارت کے اندر کی ہے۔ اپوزیشن ارکان پارلیمنٹ کا مؤقف تھا کہ کرونا ایس او پیز حکومت نے طے کی ہیں اور وزیر صحت کی جانب سے اس کی خلاف ورزی شرمناک فعل ہے۔

واضح رہے کہ گینا کولاڈ اینجیلو اور میٹ ہینکاک آکسفورڈ یونیورسٹی کے اسٹوڈنٹ ریڈیو اسٹیشن میں ایک ساتھ کام کرچکے ہیں۔ انہیں گزشتہ سمتبر کو وزیر صحت کا معاون مقرر کیا گیا تھا۔

میٹ ہینکاک اور گینا کولاڈ اینجلیو دونوں ہی شادی شدہ ہیں اور دونوں کے 3،3 بچے ہیں۔

متعلقہ خبریں