مذاکرات سے قبل امریکہ کو جوہری معاہدے کی بحالی پر شکوک کا اظہار

امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا ہے کہ ایران کو معلوم ہے کہ کن شرائط کی پاسداری کر کے وہ جوہری معاہدے کی جانب واپس آ سکتا ہے۔
ان کا یہ بیان اس وقت آیا ہے جب ایران کے حکام اور سخت گیر عناصر میں بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے ساتھ تعاون کے معاملے پر تناؤ جاری ہے۔
عرب نیوز کے مطابق اتوار کو ایران کی جانب سے اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کے ساتھ چوہے بلی کا کھیل دوبارہ شروع کیا گیا تو امریکہ نے ایرانی جوہری پروگرام کے حوالے سے ڈیل کے احیا پر شکوک و شبہات ظاہر کیے۔
مزید پڑھیں
ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ معاہدے کے تحت تین ماہ تک ایران کی نیوکلیئر ریسرچ سائٹس کی نگرانی کی تصاویر جمع کرنے کا دورانیہ مکمل ہو گیا ہے جبکہ سخت گیر سیاست دانوں کا مطالبہ ہے کہ یہ تصاویر عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے حوالے کرنے کے بجائے تلف کر دی جائیں۔
باقر قالیباف کا کہنا تھا کہ ‘ان تین ماہ کے بعد عالمی جوہری توانائی ایجنسی کو حق نہیں رہا کہ وہ کیمرے کی فوٹیج تک رسائی حاصل کرے۔’
سخت گیر سیاست دان علی رضا سلیمی نے کہا کہ کیمرے میں ریکارڈ کیے گئے امیجز کو ضائع کر دیا جائے۔
ایران نے جوہری ڈیل کے احیا کے لیے جاری مذاکرات کے دوران ویانا میں اپنی نیوکلیئر سائٹس کی نگرانی کی تصاویر جمع کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔
سنہ 2015 میں عالمی طاقتوں اور ایران کے مابین پابندیاں ہٹانے کے بدلے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کا مشترکہ جامع پلان آف ایکشن طے پایا تھا۔
یہ ڈیل سنہ 2018 میں اس وقت ناکام ہوئی جب سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ملک کو اس مشترکہ جامع پلان آف ایکشن سے باہر نکالا اور ایران نے معاہدے کے برعکس یورینیم کی افزودگی شروع کی۔

ایرانی حکام کہتے ہیں کہ پہلے پابندیاں اٹھائی جائیں جبکہ امریکہ کا مطالبہ ہے کہ پہلے شرائط پوری کی جائیں۔ فائل فوٹو: اے ایف پی
صدر جو بائیڈن نے مشترکہ جامع پلان آف ایکشن میں امریکہ کے واپس آنے کی پیشکش کی ہے اگر ایران شرائط پر عملدرآمد شروع کرتا ہے تاہم ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ پہلے پابندیاں اٹھائی جائیں۔

امریکی وزیر خارجہ کیا کہتے ہیں؟

انٹونی بلنکن نے امریکی نیوز چینل اے بی سی کے پروگرام میں اظہار خیال کرتے ہوئے مشترکہ جامع پلان آف ایکشن کے احیا کے لیے ایران کے وعدوں پر سوال اٹھائے۔
خیال رہے کہ اس حوالے سے ویانا میں بدھ کو بات چیت دوبارہ شروع ہو رہی ہے۔
امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ‘ہم جانتے ہیں کہ کون سی پابندیاں اٹھائیں جائیں جب وہ جوہری معاہدے کی شرائط پر عمل کرنے میں تسلسل نہیں رکھ رہے۔’
انٹونی بلنکن کے مطابق ‘میرے خیال میں ایران جانتا ہے کہ جوہری معاملے میں واپس آنے کے لیے اس کو کیا کرنے کی ضرورت ہے، اور جو کچھ ہم نے ابھی تک نہیں دیکھا وہ یہ ہے کہ کیا ایران وہ فیصلہ کرنا چاہتا ہے جو اس کو کرنا چاہیے۔ یہ وہ امتحان ہے جس کا ہم نے ابھی تک کوئی جواب نہیں پایا۔’

ایران کے حکام چاہتے ہیں کہ یورپی طاقتیں تیل کی برآمد پر عائد پابندیاں ہٹائیں۔ فوٹو: روئٹرز
ویانا میں مشترکہ جامع پلان آف ایکشن کے احیا پر مذاکرات کے پانچویں دور سے قبل امریکہ وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ‘پہلا کام جس کی ضرورت ہے وہ جوہری پروگرام کو واپس ڈبے میں بند کرنا ہے۔’
ایران کی پارلیمان نے گزشتہ برس دسمبر میں ایک قانون کی منظوری دی تھی جس کے تحت اگر مشترکہ جامع پلان آف ایکشن پر دستخط کرنے والے یورپی ممالک فروری تک ایران کو تیل اور بینکنگ پابندیوں میں ریلیف نہیں دیتے تو وہ اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کو جوہری تنصیبات تک رسائی معطل کر سکتا ہے۔