مردان:پولیوٹیم کی سیکورٹی پرمامور سیکورٹی اہلکاروں پرفائرنگ،2 پولیس اہلکارجاں بحق

مردان میں پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کی مہم کے دوران سیکورٹی ڈیوٹی پر مامور پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کی گئی جس سے 2 پولیس اہلکار جاں بحق ہوگئے۔

مردان میں رستم پلوڈھیری میں پولیو ٹیم کی ڈیوٹی پر مامور پولیس اہلکاروں پر فائرنگ  کی گئی۔ جاں بحق ہونے والے پولیس اہلکاروں کی لاشوں کو اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق فائرنگ نامعلوم افراد کی جانب سے کی گئی ہے اور اس واقعے کی تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔

ریسکیو حکام کے مطابق جاں بحق اہلکاروں کی شناخت علی سید رضا علی اور شاکر کے نام سے ہوئی ہے۔دونوں اہلکاروں کا تعلق تھانہ چورہ کی حدود گجرات بخشالی سے ہے۔ ضلع بھر میں 7 جون سے 11 جون تک پولیو مہم جاری ہے۔ پولیو ٹیموں کی حفاظت کے لیے 2 ہزار سےزائد اہلکار ڈیوٹی دے رہے ہیں۔

 دو روز قبل چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل ڈاکٹر قبلہ ایاز نے کہا ہے کہ ملک میں پولیو کے متعدد کیسز کو روکنے کےلیے بچاؤ کے قطرے پلانا اہم ہے۔انھوں نے بتایا کہ پولیو سے بچاؤ کے قطرے میں شامل اجزاء حلال ہیں اور پوری تحقیق کے بعد علمائے کرام کا فتوی آیا ہے جس کی اسلامی نظریاتی کونسل نے بھی تائید کی ہے۔ قبلہ ایاز کا کہنا تھا کہ والدین کیلئے مذہبی فریضہ کے ساتھ انسانی طور پر بھی بچوں کو محفوظ بنائیں۔

مذہبی اسکالر مولانا طارق جمیل نے انسدادِ پولیو مہم کے دوران پولیو ورکرز سے بھرپور تعاون کی اپیل کی اور ویڈیو پیغام میں کہا کہ اللہ نے ہر بیماری کی دعا دنیا میں اتار دی ہے۔ پولیو ایک خطرناک مرض ہے جس کا دنیا سے خاتمہ ہو چکا ہے تاہم پاکستان ابھی تک پھنسا ہوا ہے کیونکہ پولیو سے بچاؤ کے قطرے نقصان دینے جیسی فرضی باتیں چلتی ہیں۔

مولانا طارق جمیل نے بتایا کہ پولیو سے بچاؤ کے قطرے بچوں کی حفاظت کیلئے ہیں اور اس لئے والدین پولیو کے خاتمے کیلئے بچوں کو بچاؤ کے قطرے پلائیں۔

پولیو پروگرام کےکوارڈینیٹر ڈاکٹر شہزاد بیگ نے بتایا کہ پاکستان میں پولیو کیسز میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہےاور رواں سال صرف 1 پولیو کیس بلوچستان کے ضلع قلعہ عبداللہ سے سامنے آیا۔گزشتہ سال 84 پولیو کیسز سامنے آئےتھے۔

پیر 7 جون سےملک کے 124 اضلاع میں پولیو مہم کا آ غاز ہوگیا ہے اور پانچ سال تک کے 3 کروڑ30 لاکھ سے زیادہ بچوں کوپولیو سےبچاؤ کی ویکسین دی جارہی ہے۔

متعلقہ خبریں