مریخ پر ہیلی کاپٹر کی پہلی کامیاب پرواز، سائنسدانوں کو رائٹ برادرز یاد آ گئے

امریکی خلائی ادارے ناسا کے ایک چھوٹے ہیلی کاپٹر نے پیر کی صبح مریخ پر پہلی کامیاب پرواز کی ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق جب ہیلی کاپٹر نے اڑان بھری تو ناسا کے ایک انجینیئر نے خوشی سے کہا کہ ’یہ ہمارے لیے ویسا ہی لمحہ ہے جیسا رائٹ برادرز کے لیے تھا۔‘ 
پیر کی صبح تقریباً تین بج کر 34 منٹ پر چار پاؤنڈ کا روٹر کرافٹ چھوڑا گیا جس نے مریخ کی سطح سے 10 فٹ اوپر پرواز کی اور 39 اعشاریہ ایک سیکنڈ کے بعد واپس آ گیا۔ 
مزید پڑھیں
اس پرواز کے ذریعے ڈیٹا اور تصاویر 173 ملین میل (278 ملین کلومیٹرز) کے فاصلے سے زمین پر ناسا کو بھیجی گئیں جن کو مختلف انٹیناز اور آلات کی مدد سے تین گھنٹے بعد کامیابی کے ساتھ وصول کر لیا گیا۔
 انجینیئرز کیلیفورنیا کی لیبارٹری میں بیٹھ کر سکرینز پر نظریں جمائے ہوئے تھے جہاں تقریباً چھ سال سے اس منصوبے پر کام جاری تھا۔
انجینیئرز کے درمیان اس وقت خوشی کی لہر دیکھی گئی جب ان میں سے ایک نے چیک لسٹ دیکھتے ہوئے کہا کہ پرواز کامیابی کے ساتھ مکمل ہو گئی ہے۔
انجینویٹی نے فوراً ہی ایک بلیک اینڈ وائٹ تصویر بھیجی جو اس کے نچلے حصے میں لگے کیمرے سے کھینچی گئی تھی جس میں اس کا سایہ مریخ کی سطح پر کسی کیڑے کی طرح نظر آ رہا ہے۔

پرواز مکمل ہوتے ہی ناسا کے خلائی سنٹر میں موجود انجینیئرز نے خوشی کا اظہار کیا (فوٹو: اے ایف پی)
اس کے بعد ایک رنگین ویڈیو بھی بھیجی گئی جس میں نظر آ رہا ہے کہ انجینویٹی سطح کے اوپر اور پرواز میں دیکھی جا سکتی ہے۔
مزید تصویروں اور ویڈیوز کی توقع بھی کی جا رہی ہے۔ کامیاب پرواز کے ساتھ ہی ٹیم لیڈر انجینیئر می می آنگ نے کہا ’ہم مریخ پر اپنے رائٹ برادران لمحے کے حوالے سے بات کر رہے تھے، جو کہ یہ ہے۔‘
زمین پر پہلی کامیاب پرواز 1903 میں شمالی کیلیفورنیا کے علاقے کیٹی ہاک میں رائٹ برادران نے کی تھی۔ اُس جہاز میں استعمال ہونے والے کپڑے کا ایک ٹکڑا انجینویٹی میں لگایا گیا تھا۔ ناسا کی جانب سے اس پرواز کی منصوبہ بندی 11 اپریل کے لیے کی گئی تھی تاہم سافٹ ویئر میں کچھ مسائل سامنے آئے جن کو بعد ازاں درست کر لیا گیا۔
انجینویٹی کا مقصد ٹیکنالوجی ورک کا مظاہرہ کرنا ہے تاہم امید کی جا رہی ہے کہ یہ آئندہ ہونے والی پروازوں کے لیے ایک سمت کا تعین کر دے گا اور ایسی بہت سی معلومات سامنے آئیں گی جو پچھلی کوششوں میں نہیں مل سکی تھیں جب روور کچھ مقامات تک نہیں جا سکا تھا جبکہ اس کی پرواز کی رفتار روور کی رفتار سے زیادہ ہے۔
ناسا کے ایڈمنسٹریٹر سٹیوجر سیزک کہتے ہیں کہ ’ہمیں نہیں معلوم کہ انجینویٹی ہماری کس حد تک رہنمائی کرے گا مگر آج کے نتائج میں کم سے کم یہ بات سامنے آئی ہے کہ مریخ پر آسمان ہے۔‘

انجینویٹی کی جانب سے سنٹر میں کئی تصویریں اور ویڈیوز بھجوائی گئی ہیں (فوٹو: ناسا)
یہ پرواز اس لیے زیادہ مشکلات لیے ہوئے تھی کہ وہاں کی صورت حال زمین سے بہت زیادہ مختلف ہے اس لیے اس میں زیادہ طاقت والی اشیا استعمال کی گئیں۔
جن کی بدولت انجینویٹی کے روٹرز نے ایک منٹ میں ڈھائی ہزار بار کامیابی سے کام کیا جو زمین پر اڑنے والے ہیلی کاپٹر کی نسبت پانچ گنا زیادہ تھا۔
علاوہ ازیں اس میں کچھ ایسی سمارٹ فون ڈیوائسز بھی نصب اور استعمال کی گئیں جو اس سے قبل خلا میں استعمال نہیں ہوئی تھیں۔ پرواز کے دوران مریخ سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کا ٹیم جائزہ لے گی جس کے بعد اگلی پرواز کے لیے منصوبہ بندی کی جائے گی جو 22 اپریل سے پہلے نہیں ہو گی۔
می می آنگ کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم پہلے اپنے کارنامے کی خوشی منائیں گے اور اس کے بعد منصوبہ بندی کریں گے کہ آگے ہم نے کیا کرنا ہے۔‘
انہوں نے رائٹ برادران کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’تاریخ بتاتی ہے کہ اس کے بعد انہوں نے اپنے جہاز کے بارے میں وہ کچھ جو وہ کر سکتے تھے، اس لیے ہم بھی کریں گے۔‘