’مریم اورنگزیب کو ہراساں کرنے والوں کے خلاف فی الحال کارروائی کا ارادہ نہیں‘

رانا ثنااللہ نے کہا کہ ’کارروائی میں پڑیں گے تو لوگوں سے جو ہمدردی ملی ہے اس میں کمی آئے گی‘ (فائل فوٹو: پی آئی ڈی)

پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ کا کہنا ہے کہ مریم اورنگزیب کو لندن میں ہراساں کیے جانے کے معاملے پر حکومت کا ’فی الحال کارروائی کا ارادہ نہیں۔ ’اگر وہ چاہیں گی تو کارروائی شروع کریں گے۔‘
منگل کو جیو نیوز پر گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ حکومت اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ اس واقعے سے مریم اورنگزیب اور ن لیگ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ ’اس قسم کی کارروائی میں پڑیں گے تو ہمیں لوگوں سے جو ہمدردی ملی ہے اس میں کمی آئے گی۔‘
مزید پڑھیں
’اگر کوئی پاکستانی جس نے اپنی شہریت نہیں چھوڑی تو وہ پوری دنیا میں کوئی بھی جرم کرے تو تو پی پی سی کے مطابق اس کے خلاف مقدمہ درج ہو سکتا ہے۔‘
رانا ثنا اللہ کے بقول ان میں سے جو لوگ پاکستانی شہریت کے حامل ہیں ان کے خلاف مقدمہ درج ہو سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ’میری مریم اورنگزیب سے بات ہوئی ہے اگر وہ چاہیں گی تو ہمیں کارروائی شروع کرنے میں کوئی عار نہیں۔‘
انہوں نے مزید بتایا کہ ’احسن اقبال کا معاملہ ہوا تو ہم نے کارروائی شروع کی لیکن احسن اقبال نے ضد کر کے کہا کہ اسے ختم کر دیں۔‘
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا حکومت ان افراد کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرے گی تو وزیر داخلہ رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ ’فی الحال کوئی ارادہ نہیں۔‘
اس سے قبل وزیراعظم کے معاون خصوصی عطا اللہ تارڑ نے بتایا تھا کہ ’مریم اورنگزیب کو ہراساں کرنے کے معاملے پر برطانیہ سے رابطہ کریں گے۔‘
منگل کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عطااللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ ’لندن میں مریم اورنگزیب کو ہراساں کرنے کی شدید مذمت کرتے ہیں، یہ ملک کی عزت کا سوال ہے، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کریں گے۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’وہ وزیر داخلہ سے درخواست کریں گے کہ ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔‘