مریم نواز کی چار برس بعد لندن روانگی، ایک ماہ قیام کا امکان

پیر 3 اکتوبر کو عدالت نے مریم نواز کا پاسپورٹ واپس کیا تھا۔ فوٹو: اے ایف پی

پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز جاتی امرا میں اپنی رہائش گاہ سے ایئر پورٹ کے لیے روانہ ہوں گئی ہیں جہاں سے وہ لندن کے لیے فلائٹ لیں گی۔
سفری دستاویزات کے مطابق مریم نواز نجی ایئر لائن کی پرواز سے لندن کے لیے روانہ ہو رہی ہیں۔
مسلم لیگ ن کی نائب صدر ایک ماہ لندن میں گزارنے کے بعد 6 نومبر کو پاکستان واپس آئیں گی۔
مزید پڑھیں
ایئر پورٹ کے لیے روانگی سے پہلے مریم نواز نے دادا، دادی اور والدہ کی قبروں پر حاضری دی۔ 
مسلم لیگ ن کے مطابق مریم نواز کا دورہ لندن سیاسی اعتبار سے اہمیت کا حامل ہے۔ وہ نہ صرف اپنے والد سے ملاقات کریں گی بلکہ نواز شریف کی واپسی سے متعلق بھی حتمی فیصلہ متوقع ہے۔
خیال رہے کہ پیر کو لاہور ہائی کورٹ کے فل بینچ نے چیف جسٹس امیر بھٹی کی سربراہی میں مریم نواز کی پاسپورٹ واپسی کی درخواست قبول کرتے ہوئے ان کا پاسپورٹ واپس کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
اس سے پہلے چار ججوں نے مریم نواز کے پاسپورٹ واپسی کی درخواست سننے سے انکار کر دیا تھا۔
مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے پاسپورٹ واپس لینے کی درخواست اپریل میں اس وقت دائر کی تھی جب مسلم لیگ ن اور اتحادیوں نے حکومت سنبھالی تھی۔ تاہم اس وقت ایک ایسی صورت حال پیدا ہوئی جس میں تین مرتبہ مختلف ججز نے ان کا کیس سننے سے معذرت کی تھی۔
مریم نواز نے آخری بار بین الاقوامی سفر جولائی 2018 میں کیا تھا جب وہ اپنے والد نواز شریف کے ہمراہ لندن سے پاکستان آئی تھیں تو انہیں لاہور ایئر پورٹ سے گرفتار کر لیا گیا تھا۔
جب نومبر 2019 میں نواز شریف علاج کے غرض سے عدالتی ضمانت پر لندن روانہ ہوئے تو مریم نواز کی ضمانت کے عوض عدالت نے ان کا پاسپورٹ اور سات کروڑ روپے نقد رقم لی تھی۔
اس کے بعد چار سال تک مریم نواز کا پاسپورٹ عدالتی کسٹڈی میں رہا۔ چار ججز نے مختلف اوقات میں ان کی پاسپورٹ لینے کی درخواست سننے سے انکار کیا۔ ایک مرتبہ انہوں نے ججز کے کیس نہ سننے کی بنا پر اپنی درخواست ہی واپس لے لی تھی۔