مسافر طیارے کی زبردستی لینڈنگ: بیلاروس کا حماس پر الزام، تنظیم کی تردید

بیلاروس میں حکام کا کہنا ہے کہ مسافر طیارے کو دارالحکومت منسک میں زبردستی لینڈ کروانے پر مجبور کرنے والی بم کی جھوٹی دھمکی فلسطینی گروپ حماس کے نام سے دی گئی تھی۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ انہیں بم کی دھمکی میسج پر موصول ہوئی۔ حماس کے ترجمان فوزی برھوم نے اپنے گروپ کو اس بارے میں کچھ بھی معلوم ہونے کی تردید کی ہے۔
مزید پڑھیں
واضح رہے کہ اتوار کو رایان ایئر کی ایک پرواز کو زبردستی بیلاروس میں اتار لیا گیا تھا۔
مسافر طیارے میں کے بیلاروس کے رہنما الیگزینڈر لوکاشینکو پر تنقید کرنے والے صحافی رومان پروٹاسیوچ موجود تھے جن کو حکام نے گرفتار کیا۔
مغربی ممالک کے حکام یونان سے لیتھوینیا جانے والی پرواز کے لینڈ کروائے جانے پر بیلاروس کے خلاف پابندیاں لگانے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ جہاز بیلاروس کی بین الاقوامی فضائی حدود سے گزر رہا تھا۔
بیلاروس کے دارالحکومت منسک میں وزارت صحت کے ترجمان کا کہنا تھا کہ بیلاروس نے بین الاقوامی قوانین کے تحت کارروائی کی ہے، جبکہ ایک سینیئر ٹرانسپورٹ آفیشل نے بم کی دھمکی والا میسج پڑھ کر سنایا۔
وزارت ٹرانسپورٹ کے ایوی ایشن ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ نے بتایا کہ میسج میں لکھ اہوا تھا کہ ‘ہم حماس کے سپاہی، اسرائیل سے غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ہم یورپی یونین سے اس جنگ میں اسرائیل کی حمایت واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہیں۔’

جہاز میں بیلاروس کے رہنما پر تنقید کرنے والا صحافی موجود تھا۔ فوٹو: اے ایف پی
اس میں مزید لکھا گیا تھا کہ ‘اس جہاز میں بم ہے۔ اگر آپ نے ہمارے مطالبات نہیں مانے تو بم (لتھوینیا کے دارالحکومت) ولنیئس میں 23 مئی کو پھٹ جائے گا۔’
حماس کے ترجمان برھوم کا کہنا تھا کہ ‘گروپ کا اس سے معاملے سے کچھ لینا دینا نہیں۔’
فلسطینی موومنٹ اور اسرائیل 11 دن کی کشیدگی کے بعد جنگ بندی کے چوتھے دن میں ہیں۔ یہ کشیدگی اسرائیل اور حماس کے درمیان اب تک کی بد ترین لڑائی تھی۔