مسلمانوں کاقتل: عرب سوشل میڈیاپر بھارتی مصنوعات کے بائیکاٹ کامطالبہ

بھارت کی ریاست آسام میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف ان دنوں عرب دنیا میں سوشل میڈیا پر بھارتی مصنوعات کے بائیکاٹ کے حوالے سے زور و شور سے مہم جاری ہے۔

مہم کا آغاز اس وقت ہوا جب بھارتی صوبے آسام میں ایک مسلمان شخص پر کیے گئے حملے کی ویڈیو دنیا بھر میں وائرل ہوگئی۔

بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق اس ویڈیو کے باعث دنیا بھر میں سوشل میڈیا پر غم و غصہ پایا جاتا ہے اور خصوصاً عرب ممالک میں بھارتی مصنوعات کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا جا رہا ہے تاکہ بھارت کو مسلمانوں کا قتل بند کرنے پر مجبور کیا جائے۔

بھارت میں سیاست دان اور انسانی حقوق کے کارکن حکومت پر اس تشدد میں ملوث ہونے کا الزام لگاتے آئے ہیں اور سوشل ڈیموکریٹک پارٹی نے حکومتی اقدامات کو نازی ازم و بربریت سے تشبیہہ دیا ہے۔

ایسے میں عرب ممالک میں ہیش ٹیگ ’انڈیا مسلمانوں کا قتل کرتا ہے‘ بھی ٹرینڈ کرتا رہا ہے جس میں بھارت پر نسل کشی کا الزام لگایا گیا۔ ان ٹرینڈز میں بہت سے لوگوں نے بے گھر خاندانوں کے لیے اپنی حمایت اور حکام کی جانب سے ان کے ساتھ سلوک کی مذمت کا اظہار کیا۔

کتاب ’اسلاموفوبیا‘ کے مصنف اور محقق خالد بیڈون نے اسے ’ریاستی حمایت یافتہ اسلاموفوبیا‘ اور ’ہندو قومی تشدد‘ کے طور پر بیان کیا۔

آسام کی حکومت گزشتہ چند مہینوں سے لاکھوں بے زمین اور غریب افراد کی  کچی بستیوں کو خالی کرانے کی مہم چلا رہی ہے۔

ایسے ہی ‘غیر قانونی تجاوزات’ کے خلاف حکومتی کارروائی کے دوران ضلع درانگ کے علاقے سیپا جھار میں گزشتہ ہفتے ہونے والے تصادم میں ہلاک ہونے والے شخص کی لاش کی بے حرمتی کی ویڈیو منظر عام پر آئی اور پھر اس حوالے سے سوشل میڈیا پر شدید مذمت بھی کی گئی۔

جھونپڑیوں پر مشتمل بستی کے ہزاروں لوگوں نے زمین خالی کرانے کی اس مہم کے خلاف مزاحمت کی تھی اور اس موقع پر پولیس کی فائرنگ سے 2 افراد ہلاک اور کئی زخمی ہوگئے تھے۔

ہلاک ہونے والوں کی شناخت صدام حسین اور شیخ فرید کے نام سے ہوئی ہے۔

اس حوالے سے سوشل میڈیا پر رد عمل دیتے ہوئے تجزیہ نگار عبداللہ العمادی کا کہنا تھا کہ ہم فوجی اور سیاسی طریقوں سے تو کچھ نہیں کر سکتے لیکن ہمارے پاس بائیکاٹ کا ہتھیار بہرحال موجود ہے۔ ایک طرف ہمارے بھائیوں کو ہندو انتہا پسندوں کی طرف سے مارا جا رہا ہے اور انہیں واضح طور پر حکومتی معاونت دی جا رہی ہے۔ اور ہمیں یاد ہے کہ بائیکاٹ فرانس ٹرینڈ کی کتنی اہمیت تھی۔

ایک اور صارف نے لکھا کہ ’مسلمان انڈیا کو فرانس کی طرح گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیں گے لہٰذا یہ مہم جاری رکھی جائے۔

تازہ ترین

افغانستان میں 64 کے آئین کاعارضی نفاذ متوقع
ملتان:50سالہ الیکٹریکل انجینئر بریانی فروخت کرنےپرمجبور
مسلمانوں کاقتل: عرب سوشل میڈیاپر بھارتی مصنوعات کے بائیکاٹ کامطالبہ
لندن میں شہبازشریف پرکوئی کیس نہیں تھا،شہزاداکبر